مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 40 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 40

40 ھے اور ابتلاء آتا ھے تو وہ رگ اور پٹھے کا لحاظ رکھ کر نهیں آتا۔یہ بہت دلچسپ عبارت ہے۔لمبی ہے اس میں سے میں نے ایک ٹکڑا لیا ہے۔مراد یہ ہے کہ انسان خود خدا کی راہ میں جتنی مرضی محنت کرے اور اپنے بدن کو اس لئے کمائے کہ خدا کی راہ میں خرچ کرے۔جتنی چاہے ریاضت کرے مگر اپنے رگ پٹھے کا بھی خیال رکھتا ہے اور کبھی اس سے غافل نہیں ہوتا مگر جب خدا ابتلاء میں ڈالتا ہے تو ہر گز رگ پٹھے کا خیال نہیں کرتا پھر جس قدر اس کو تکلیف پہنچے، پہنچنے دیتا ہے اور وہ تکلیف اس کی مرضی سے نہیں ہوتی۔بے اختیاری کے عالم میں مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ خدا کی راہ میں تکلیف اُٹھائے اور صبر دکھائے۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کے متعلق میں یہ عبارت پڑھ رہا ہوں۔اس میں رگ پیٹھے کو جو لفظ آیا ہے اس کو اچھی طرح سمجھ لیجئے۔فرماتے ہیں۔ابتلاء آتا ہے تو وہ رگ اور پیٹھے کا لحاظ رکھ کر نہیں آتا۔خدا کو اس کے آرام اور رگ پٹھے کا خیال مد نظر نہیں ہوتا۔انسان جب کوئی مجاہدہ کرتا ہے تو اپنا تصرف رکھتا ہے مگر جب خدا کی طرف سے کوئی امتحان آتا ہے تو اس میں انسان کے تصرف کا دخل نہیں ہوتا۔انسان خدا کے امتحان میں بہت جلد ترقی کر لیتا ہے اور وہ مدارج حاصل کر لیتا ہے جو اپنی محنت اور کوشش سے کبھی حاصل نہیں کر سکتا۔“ (الحکم چلد 11 نمبر 34 مورخہ 24 ستمبر 1907 ء صفحہ 5 عمر بھر ریاضتوں میں جو گزر جائے اس کے نتیجے میں اس تیزی کے ساتھ انسانی روح خدا کے حضور صعود نہیں کرتی جتنا خدا کی طرف سے ڈالے ہوئے ابتلاء میں ظہور میں آتا ہے اور یہی صورت ہمارے شہید ا عزیزم غلام قادر کی شہادت پر اطلاق پاتی ہے۔اس تمہید کے بعد جو قرآنی آیات اور احادیث اور مسیح موعود علیہ