مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 39 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 39

39 پائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ”شہید کا کمال یہ ہے کہ مصیبتوں اور دکھوں اور ابتلاؤں کے وقت میں ایسی قوت ایمانی اور قوت اخلاقی اور ثابت قدمی دکھلاوے کہ جو خارق عادت ہونے کی وجہ سے بطورِ نشان کے ہو جاوے۔“ (روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 516) پھر فرماتے ہیں ”اے مومنو! ہم تمہیں اس طرح پر آزماتے رہیں گے اور کبھی خوفناک حالت تم پر طاری ہو گی اور کبھی فقر و فاقہ تمہارے شامل حال ہو گا اور کبھی تمہارا مالی نقصان ہوگا اور کبھی جانوں پر آفت آئے گی اور کبھی اپنی محنتوں میں ناکام رہو گے اور حسب المراد نتیجے کوششوں کے نہیں نکلیں گے اور کبھی تمہاری پیاری اولا د مرے گے۔پس ان لوگوں کو خوشخبری ہو کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم خدا کی چیزیں ہیں اور اس کی امانتیں اور اس کی مملوک ہیں۔پس حق یہی ہے کہ جس کی امانت ہے اس کی طرف رجوع کرے۔یہی لوگ ہیں جن پر خدا کی رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہیں جو خدا کی راہ کو پا گئے۔غرض اسی خُلق کا نام صبر اور رضا برضائے الہی ہے۔“ رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ 115-116) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی تعلق میں ان قربانیوں کے ادوار میں جماعت کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں ” کوئی یہ نہ کہے کہ میرے پر ہی تکلیف اور ابتلاء کا زمانہ آیا ہے بلکہ ابتداء سے سب نبیوں پر آتا رہا ہے۔ایک روایت میں لکھا ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے تھے۔آخر بشریت ہوتی ہے، غم کا پیدا ہونا ضروری ہے مگر ہاں صبر کرنے والوں کو پھر بڑے بڑے اجر ملا کرتے ہیں۔“ پھر فرماتے ہیں۔جب خدا کی طرف سے کوئی امتحان پڑتا وو