مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 346 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 346

346 ڈاکٹر مرزا خالد تسلیم صاحب: ہر میدان میں اوّل میرے چھوٹے خالہ زاد بھائی تھے۔آنے والے وقتوں میں انشاء اللہ ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا جائے گا لیکن چند باتیں ان کے بارے میں جو میں نے اپنی نظر سے دیکھیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔قادر نے اپنی 37 سالہ مختصر زندگی اتنے بھر پور انداز سے گزاری اور وہ مقام حاصل کیا جو بعض لوگ بہت لمبی عمر میں بڑی مشکل سے پاتے ہیں۔ان کا بچپن بہت ہی دلچسپ تھا شوخی اور شرارت ایسی جس سے سب لطف اُٹھا ئیں نہ کہ کوفت ہو عام بچوں کی نسبت زیادہ لمبا عرصہ تک توتلی زبان میں باتیں کرتے تھے۔اس عمر میں جو باتیں ایک ذہین بچے میں ہونی چاہیں وہ سب موجود تھیں۔ان کے بڑے بھائی مرزا محمود احمد اور بہنیں شروع ہی سے پڑھائی میں بہت اچھے تھے لیکن قادر کی توجہ اس عمر میں پڑھائی کی طرف کچھ زیادہ نہیں تھی میں نے خالہ کو کئی بار قادر سے کہتے سنا کہ قادر تمہاری بھائی اور بہنیں پڑھائی میں اتنے اچھے ہیں لیکن تم اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں کرتے اُس وقت کسے معلوم تھا کہ یہ سب کو پیچھے چھوڑ جائے گا۔جیسے جیسے قادر کی عمر بڑھی ان میں ایک نمایاں تبدیلی آنے لگی۔ان کی ایک خاص مسکراہٹ تو آخر دم تک رہی لیکن سنجیدگی اور کم گوئی میں اضافہ ہونے لگا پڑھائی کی طرف توجہ بڑھتی گئی اور ایک دن پتہ چلا کہ قادر پورے پشاور میں