مرزا غلام قادر احمد — Page 317
317 ہوگا اس کے چہرے پر ایک سکون تھا اور کسی تکلیف کا اظہار نہ ہوتا تھا۔یوں لگتا تھا کہ سویا ہوا ہے۔یہ شاید کوئی غیر معمولی بات نہ ہومگر دوسرے روز جب اسے تابوت میں رکھنے سے پہلے میں اس کے آخری دیدار کے لئے گیا تو مجھے دیکھتے ہی احساس ہوا کہ اُس کے چہرے پر نمایاں اور بالکل ظاہر تبدیلی ہوئی ہے اب اس کے لبوں پر مسکراہٹ کے واضح آثار تھے۔میں دیکھ کر دھک سے رہ گیا کیونکہ یہ کوئی میری نظر کا دھوکا نہ تھا اور نہ ہی میرا خیال مجھ سے کھیل رہا تھا۔کل ہی جب ہم گھر والے اس کے متعلق باتیں کر رہے تھے تو میں نے ذکر کیا کہ کسی نے قادر کے چہرے پر کوئی تبدیلی تو نہیں دیکھی تو میری بیٹی نصرت جہاں (چوچو) نے کہا کہ ابا میں آپ سے پہلے ہی پوچھنے والی تھی کہ آپ نے کوئی خاص بات نوٹ کی تھی تو میں نے پوچھا کہ کون سی بات تو اُس نے کہا که رخصتی سے چند گھنٹے پہلے قادر شہید کے چہرے کے آثار بدل گئے تھے اور اب وہ صرف پُر سکون ہی نظر نہ آتا تھا بلکہ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ صاف نظر آ رہی تھی نیز اس کے چہرے اور جسم پر موت کے بعد جو سختی اور تناؤ آجاتا تھا جسے Rigour Mortis کہتے ہیں بالکل نہ تھا۔کلوں پر ہاتھ لگاؤ تو جس طرح زندہ انسان کی جلد دباؤ پر دب جاتی ہے وہ دب جاتی اور پھر اصل حالت پر واپس لوٹ آتی اس کے کلے ہونٹ ، گردن بالکل زندہ لوگوں کی طرح نرم رہے۔آخری وقت یعنی چھتیں گھنٹوں کے بعد بھی تدفین کے وقت تک، جب وہ گھر سے رخصت ہوا، اسی حالت میں رہے۔میں یہ بات حلفاً لکھ رہا ہوں۔واللہ اعلم بالصواب قادر شہید کی پیدائش پر ہم نے اس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام غلام قادر آئے گھر نور اور برکت سے بھر گیا‘ کی مناسبت سے اور برکت کے طور پر رکھا تھا۔وہ واقعی اپنی شہادت سے ہمارے گھر کو