مرزا غلام قادر احمد — Page 316
316 تو صبح پھول بچھائے صبا ہمارے لئے عجیب کیفیت جذب و حال رکھتی ہے تمہارے شہر کی آب وہوا ہمارے لئے دئے جلائے ہوئے ساتھ ساتھ رہتی ہے تمہاری یاد تمہاری دعا ہمارے لئے زمین ہے نہ زماں، نیند ہے نہ بیداری وہ چھاؤں چھاؤں سا اک سلسلہ ہمارے لئے پیارے آقا کا یہ انداز غم خواری دکھی دلوں کو ڈھارس دیتا ہے۔ہر بندے کے آگے تو کوئی دل کھول کر نہیں رکھ دیتا مگر حضور پر نور کے وجود میں ایسی مقناطیسی کشش ہے کہ ہر شخص اپنی جھولی کے غم بڑے مان اور اپنائیت سے آپ کی جھولی میں ڈال دیتا ہے جیسے کوئی اپنی سگی ماں کی گود میں سر رکھ کر کھل کر رولے اور قدرے سکون محسوس کرے جب تک آپ سے دل کی بات کہہ نہ لی جائے چین نہیں پڑتا۔جاگتی آنکھوں کے خوابیدہ مناظر ہوں یا نیند کی غفلت میں تعبیر طلب اشارے سب کچھ آپ کی خدمت میں پیش کر دیا جاتا ہے۔جوان بیٹے کی شہادت کے بعد ایک باپ نے کس طرح اُس کے چہرے کے تاثرات پڑھے قلبی کیفیت میں ہلکے سے ارتعاش کو الفاظ کا جامہ پہنا کر حضور ایدہ الودود کے سامنے پیش کر دیا۔مکتوب کیا ہے دل ناصبور کی بے ساختہ پھڑکتی ہوئی تصویر ہے۔وو حضور میں آپ کی خدمت میں ایک عجیب اور بالکل انوکھا بلکہ انہونا سا واقعہ لکھ رہا ہوں کہ عزیزم قادر شہید کا جسدِ خا کی جو کن کن اذیتوں سے گزرا