مرزا غلام قادر احمد — Page 318
نور اور برکت سے بھر گیا۔“ 318 والسلام مرزا مجید احمد حضور ایدہ الودود نے غمزدہ باپ کے قلبی تاثرات پڑھ کر محبت بھرا مکتوب تحریر فرمایا :- 20 اپریل 1999ء آپ نے سو فیصد ٹھیک کہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس عظیم شہید سے خاص حُسنِ سلوک فرما کر ہم سب کو غیر معمولی طمانیت بخشی ہے اللہ تعالیٰ اس کے درجات کو بلند سے بلند فرمائے میری طرف سے قدسیہ۔کو بہت بہت سلام نچھو اور اس کے بچوں کو خاص طور پر پیار اور بے حد دُعا حضور کی دعائیں غم میں بڑا سہارا بنتی ہیں۔آپ نے صدمات میں مناسب رد عمل کا منشور سکھایا کہ : الہی جماعتوں کو انتہائی غم کی حالت میں اپنی بے قراری اور بے بسی کو کس طرح خدا کے سپرد کرنا ہے۔غم انفرادی ہو یا اجتماعی ہر صورت میں وقار اور صبر جمیل کا اعلیٰ نمونہ دکھانا ہے۔یہ سب خلافت کے احسانات ہیں۔اُس باپ کے سینے کی بھڑکتی آگ پر جب کہ الاؤ اپنی پوری شدت پر تھا، آقا کی دلداری نے ٹھنڈی پھوار کا کام کیا۔وہ باپ جس نے دو دن پہلے جوان بیٹے کے تابوت کو لحد میں اُتارا ہو اپنے صبر و ضبط اور حوصلے کس طرح متوازن رکھتا ہے یہ ہم پر خلافت کے خاص احسانات ہیں۔جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اتنے گہرے سوگوار موسم میں صاحبزادہ مرزا مجید احمد کا یہ مکتوب ایک منفرد گو گواه