مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 100 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 100

100 دنوں اکثر آپس میں اسی کے متعلق بات کیا کرتے تھے۔پھر 1971ء کی جنگ کی ابتداء پر ہمارے گروپ کے لڑکوں میں ایک سنسنی سی دوڑ گئی تھی۔قادر نے اپنے ہاتھ سے ایک چھوٹا سا پوسٹر بنا کر اپنے گھر کے باہر لگایا تھا جس پر سبز رنگ سے Crush India لکھا ہوا تھا۔خیر جب نتیجہ اُمیدوں کے برعکس نکلا تو پورا ملک صدمے میں تھا۔ہم بچوں کا ذہن اس سانحے کو سمجھنے اور برداشت کرنے سے قاصر تھا۔لیکن پھر حالات نے ایک اور رُخ بدلا اور وہ یہ کہ بھٹو صاحب نے وطن واپس آ کر جوشیلی تقریروں کا سلسلہ شروع کیا تو ہم ان دنوں بڑے غور سے انہیں سنتے تھے اور اگلے دن اپنے بچپن کے ذہن کے مطابق ان پر بحث بھی کرتے۔مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ ہم اسکول میں اپنے ذہنی اور علمی معیار کے مطابق کسی تقریر کے متعلق بات کر رہے تھے۔ہیڈ مسٹر لیں صاحبہ کو اندر ہماری سیاسی بحث کی آوازیں جا رہی تھیں۔وہ باہر نکل کر کہنے لگیں ”آپ کو تقریر خوب یاد ہوئی ہے۔“ اسی طرح کچھ تفریح، کچھ پڑھائی میں پرائمری اسکول کے سال گزر گئے اور پتہ بھی نہ لگا۔فضل عمر اسکول میں ہماری ایک الوداعی دعوت ہوئی جس میں ایک کھیل بھی تھا۔اس میں ہر ایک کے نام ایک پرچی نکلتی تھی جس میں بتائی گئی فرمائش کو پورا کرنا پڑتا تھا اور جس کی آخر تک باری نہیں آتی تھی، اُسے ایک انعام ملتا تھا اور یہ انعام قادر کے نام نکلا تھا۔جو کہ ایک ٹینس بال تھا۔پانچویں سے نکل کر ہم تعلیم الاسلام ہائی اسکول پہنچے۔کیونکہ لڑکوں کے لئے اُس وقت ربوہ میں اس کے علاوہ کوئی اور اچھا معیاری اسکول نہ تھا۔یہاں کا ماحول بالکل نیا اور مختلف تھا۔ہمارا سیکشن ڈی تھا۔غالباً اُنہی دنوں ہمارے کزن سیّد مدقر احمد بھی کراچی سے ربوہ آ گئے