مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 99 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 99

99 تھے۔ایبٹ آباد اسکول میں جانے تک اُن کا یہ نام برقرار رہا۔ہم سب فضل عمر جونئیر ماڈل اسکول میں پڑھا کرتے تھے۔ویسے پڑھنے کا تو فقط نام ہی تھا صرف اسکول جایا کرتے تھے۔نرسری میں مس صفیہ رانجھا ہمیں پڑھایا کرتی تھیں اور پہلی جماعت سے پانچویں جماعت تک سوائے اسلامیات کے سب مضامین مسز حبیبہ مجید پڑھاتی تھیں۔اسکول کی ہیڈ مسٹرلیں مسٹر قدیر ارشاد تھیں۔ان ہیڈ مسٹریس کا ایک لوہے کا Ruler بہت مشہور تھا جس کے متعلق سب کہا کرتے تھے کہ اس سے شریر طلباء کو سزا دی جاتی ہے۔ہم نے تو اس کی زیارت کبھی نہ کی۔بہرحال اس افسانوی Ruler کا رُعب پورے اسکول پر تھا۔اُس وقت ہمارے خاندان کی پانچ لڑکیاں اور تین لڑ کے اس کلاس میں پڑھ رہے تھے۔شام کو ہم کرکٹ کھیلتے تھے۔کبھی اسکول کے سامنے کی گراؤنڈ میں اور کبھی کسی اور گراؤنڈ میں۔اپنے سے ایک سال چھوٹی کلاس سے کبھی کبھی میچ بھی ہوا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ میچوں کے اس سلسلہ میں ہم پہلا میچ ہار گئے تھے جس کا ہمیں بہت شدید صدمہ ہوا تھا۔لیکن بعد میں کچھ میچ جیت کر ہم نے حساب برابر کر دیا تھا۔قادر کافی دیچیپسی پیپسی سے کرکٹ کھیلا کرتا تھا اور پرائمری اسکول میں درمیانے درجہ کا طالب علم تھا لیکن کا پیاں بڑے قرینے سے صاف ستھری رکھا کرتا تھا اور ہینڈ رائیٹنگ بھی بہت اچھی تھی۔کلاس میں ہمارے دوستوں میں معین محمد شاہد اور ظفر احمد پاشا بھی تھے۔اُن دنوں قادر اور معین دونوں ائیر فورس میں جانا چاہتے تھے اور میرا ارادہ ڈاکٹر بننے کا تھا۔مجھے یاد ہے کہ جب راشد منہاس شہید کی شہادت ہوئی اور انہیں نشانِ حیدر دیا گیا تو ہم بچوں میں اس واقعہ پر بہت جوش و خروش پایا جاتا تھا۔بچوں کا ذہن جس طرح اس واقعہ کو سمجھ سکتا تھا اُس کے مطابق ہم اُن