مرزا غلام قادر احمد — Page 101
101 اور ہمارے کلاس فیلو بن گئے۔چھٹی جماعت تو ہم نے ٹاٹوں پہ بیٹھ کے گزاری۔ہماری تعلیمی حالت اور اسکول کا معیار دونوں کافی مطابقت رکھتے تھے۔یعنی دونوں کی حالت غیر تسلی بخش تھی۔انہی دنوں میں قادر کچھ عرصہ کے لئے مدرسۃ الحفظ میں داخل ہو گیا تا کہ قرآن کریم حفظ کر سکے لیکن جلد ہی واپس آ گیا۔جہاں تک مجھے یاد ہے اس نے ایک سیپارہ حفظ کیا تھا جو آخری سیپارہ تھا۔اُن دنوں نصابی سرگرمیوں سے زیادہ زور غیر نصابی سرگرمیوں پر ہوتا تھا۔مجھے خوب یاد ہے جب سالا نہ گھوڑ مروڑ ہوتی تو ہم میں ایک عجیب سا ولولہ پیدا ہو جاتا۔اللہ تعالیٰ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے درجات بلند کرے کہ جنہوں نے لڑکوں میں مردانہ شوق پیدا کرنے کے لئے بہت سی سہولیات فراہم کر رکھی تھیں۔ہم بعض دفعہ شام کو گھوڑ سواری کے لئے قصرِ خلافت چلے جاتے تھے۔جہاں نہ صرف یہ کہ حضور بنفس نفیس خود جلوہ افروز ہوتے بلکہ بعض دیگر بزرگان سلسلہ بھی تشریف لاتے تھے۔عجب رونق کا سماں ہوتا تھا۔قادر بھی وہاں آتے تھے۔بچے سواری تو کم ہی کیا کرتے تھے۔جھولوں پر جا کر زیادہ کھیلتے تھے۔جب گھوڑ دوڑ شروع ہوتی تو ہم دیکھنے جاتے۔نیزہ بازی کا مقابلہ بے حد شوق سے دیکھا جاتا تھا اور حضرت صاحب کا گھوڑا اشقر سب سے زیادہ مقبول تھا۔گھوڑ دوڑ ختم ہونے پر ہم بچپن کے ذوق اور طاقت کے اعتبار سے نیزہ بازی کا متبادل ڈھونڈ لیتے اور وہ یہ تھا کہ سائیکل پر نیزہ بازی شروع کر دیتے۔“ گورنمنٹ تعلیم الاسلام ہائی اسکول ربوہ کے ریکارڈ کے مطابق قادر نے 30 اپریل 1972ء کو چھٹی کلاس میں داخلہ لیا۔13 اپریل 1974ء کو کلاس ہشتم میں اس اسکول کو خیر باد کہا۔