مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 492 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 492

492 حضور ایدہ اللہ تعالیٰ (حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ امسیح الرابع) نے ہمیں اپنے پاس بلا کر جس محبت و شفقت کا سلوک فرمایا، میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتی۔بے حد شوق سے جرمنی، ہالینڈ اور اسکاٹ لینڈ کی سیریں کروائیں۔جرمنی اور ہالینڈ کے سفر کے لئے اپنی ذاتی کار مرحمت فرمائی۔کئی جگہیں دیکھنے خاص طور پر بھجوایا۔روزانہ اپنے ساتھ کھانا کھانے کا شرف بخشا۔ہر روز کھانا شروع کرنے سے پہلے ہر بچے کو باری باری سینے سے لگا کر پیار کرتے تھے۔فکر کرتے تھے کہ بچے ٹھیک سے کھا رہے ہیں یا نہیں۔ایک دن پرائیوٹ سیکرٹری صاحب کا فون آیا کہ حضور بات کریں گے حضور نے پوچھا۔چھو! بچے ٹھیک طرح کھانا نہیں کھاتے۔بتاؤ بازار کے کھانے میں انہیں کوئی خاص چیز پسند ہو تو وہ منگواتا ہوں۔سخت شرمندگی ہوئی لیکن بتانا پڑا۔رات کو کھانے پر گئے تو خود ہر بچے کے سامنے کھانے کے ڈبے رکھے (فجزاہم اللہ احسن الجزاء) یہ وہ سعادتیں ہیں جو یہ بچے اپنے ساتھ لے کر لوٹے ہیں واپسی کے لئے ملتے ہوئے حضور سے بہت دُعا کے لئے عرض کی تو بے اختیار روتے ہوئے فرمایا میں تو ہر وقت دن رات تم لوگوں کے لئے دُعائیں کرتا ہوں۔کتنی تسلی ہوئی سن کر یہ تو وہ زادِراہ ہے جو ہمیشہ ہماری حفاظت کرے گا۔انشاء اللہ۔مجھے یقین ہے کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی یہ دُعائیں خدا تعالیٰ کے خاص فضلوں کا موجب بن رہی ہیں اور ہمیشہ نہیں کی۔اللہ تعالیٰ حضور کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔آمین پھر میں اپنے تمام رشتہ داروں، وہ قادر کے قریبی ہوں یا میرے اور ساری جماعت کے حق میں دُعا گو ہوں۔جس طرح سب نے خیال رکھا پیار کا سلوک کیا ہمارے لئے دُعائیں کیں، ہمارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا وہ سب ہمارے محسن ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزا عطا فرمائے یہ بھی اسی کی مہربانی ہے کہ