مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 491 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 491

491 غمزدہ دلوں پر مرہم رکھی ہے جسے بیان نہیں ، صرف محسوس کیا جاسکتا ہے۔سوچتی ہوں کیا اس پر کبھی میں نے اتنا شکر ادا کیا ہے جتنا قادر کی جدائی کا غم محسوس کر رہی ہوں؟ ہم سب تو ایک دوسرے کے پاس اس کی امانت ہیں۔وہ جب ھی ہے یہ امانت واپس لے لے ہے یہ امانت واپس لے لے۔ہمارا حق تو کوئی نہیں وہ مالک ہے اس کی چیز جب قادر کو گولی لگی تو چنیوٹ جاتے ہوئے سارا راستہ میں اس کی زندگی کے ساتھ اس کی کامل صحت والی زندگی کی بھی دُعا مانگ رہی تھی خدایا مجھے معذوری کی حالت میں اس کو نہ دکھانا۔پتہ نہیں گولی کہاں لگی ہے؟ کبھی خیال آتا کہ خدانخواستہ اس کی آنکھوں پر نہ لگی ہو۔کبھی اس خوف سے دل بھر جاتا کہ ٹانگ پر نہ لگی ہو کہیں ٹانگ نہ کاٹنی پڑے میں اس آزاد دوڑتے بھاگتے خوش باش انسان کو بستر پر پڑا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔خدایا تو اسے کسی بھی قسم کی معذوری کی زندگی سے بچانا۔اُس خدا کا کتنا احسان ہے کہ اُس نے قادر کو محتاجی کی زندگی سے بچایا۔اس پر ایسی پیار کی نظر ڈالی کہ اُسے اپنی راہ کے لئے چن لیا۔قادر تو اپنی مراد کو پا گیا۔اس کی زندگی اور موت حضور کے اس شعر کے مصداق تھی۔جیو تو اس طرح جیو، شہید ہو تو اس طرح کہ دین کو تمہارے بعد، عمر جاوداں ملے غم تو اپنی جگہ رہے گا۔اس کی یاد مٹنے والی نہیں۔وہ ایسا ساتھی نہیں تھا جسے بھلایا جاسکے اور اس کی کمی وقت کے ساتھ بڑہتی ہی جائے گی لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے پیارے رب کے احسانات مجھے اس کا غم حد سے بڑھنے سے پہلے ہی ڈھارس بندھاتے ہیں اے اللہ! تیرے احسانات کے شکر کا حق تو کبھی ادا نہیں ہوسکتا بس تو ہمیں ناشکری سے بچانا۔