مرزا غلام قادر احمد — Page 43
43 کام کو آسان کر دیتا ہے۔بہت سی کتابیں چھپ رہی ہیں۔بہت سے ایسے کام ہیں وہ وہاں چلے جاتے ہیں وہاں سے ڈسک (Disc) بن کر ہمارے پاس آ جاتی ہے۔تو اس کا بھی سہرا غلام قادر مرحوم کے سرپرھے۔نہایت محنتی ، خاموش طبع اور دلنواز شخصیت کے مالک تھے۔تین خوبیاں یہ ایسی نمایاں تھیں۔بے انتہا محنتی ، خاموش طبع ، چپ چاپ اپنے کام میں لگے رہتے تھے اور شخصیت بڑی دلنواز تھی ، دل لبھانے والی تھی جس کو طبیعت کے بے تکلف انکسار نے چار چاند لگا دیئے تھے یعنی انکسار ایسا تھا جو بالکل بے تکلف مزاج کی رگ رگ میں داخل تھا۔شہید 21 /جنوری 1962ء کو پیدا ہوے تھے۔گویا اس عظیم شہادت کے وقت ان کی عمر 37 سال کے قریب تھی اور اب یہ عمر لا زوال ہو چکی ہے۔ان کے پسماندگان میں عزیزہ امتہ الناصر نصرت جو میری بہت ہی پیاری بھانجی ہیں ان کے بطن سے ایک نو (9) سالہ بیٹی عزیزہ سطوت جہاں ہے، ایک سات سالہ بیٹا کرشن احمد ہے نیز اڑھائی سالہ جڑواں بچے عزیزان محمد اور نور الدین شامل ہیں۔ایک خصوصیت جو اس شہادت کو اس دور کی سب دوسری شہادتوں سے ممتاز کرتی ہے جس کا میں ابھی ذکر کرنے والا ہوں وہ یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ایک بہت ہی ہولناک، ملک گیر فتنہ کے احتمال سے بچا لیا۔اس سے پہلے کوئی ایسی شہادت نہیں جس کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہو کہ اس شہادت کے نتیجے میں بکثرت معصوموں کے خون بہائے جانے کے احتمال سے خدا تعالیٰ نے بیجا لیا ہو۔اور یہ بہت ہی گہری اور بہت ہی کمینی اور ہولناک سازش تھی۔جس کے متعلق اب مزید تحقیق جاری ہے۔اگر چہ پولیس نے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی تھی مگر ہمارے ماہرین لگے۔