مرزا غلام قادر احمد — Page 42
42 الناصر نصرت ان کی بیگم تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے بزرگوں کے خون کا ایک شہید کی رگوں میں اکھٹا ہونا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔جو میرے نزدیک خاص تقدیر الہی کے تابع ہوا تاکہ سب کا حصہ پڑ جائے۔حضرت اماں جان۔۔۔کا بھی حصہ پڑ گیا اس میں اور سب بزرگوں کے جتنے خون ہیں ان کا اجتماع ہوا ہے اور یہ شاید ہی اس خاندان کہ کسی اور لڑکے کے متعلق کہا جا سکتا ہو۔۔جہاں تک شہید کے تعلیمی کوائف کا تعلق ہے وہ ان کی ذہنی اور علمی عظمت کو ہمیشہ خراج تحسین پیش کرتے رہیں گے۔لیکن اصل خراج تحسین تو ان کی وقف کی رُوح ہے جو انہیں پیش کرتی رہے گی اور ہمیشہ ان کو زندہ رکھے گی۔ان کی تعلیم پہلے ربوہ اور پھر ایبٹ آباد پبلک اسکول میں ہوئی جہاں سے ایف ایس سی کے امتحان میں یہ تمام پشاور یونیورسٹی میں اوّل قرار پائے۔پھر انجینئر نگ یونیورسٹی لاہور سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی۔ایس۔سی کی۔پھر امریکہ کی جارج میسن یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ایم۔ایس کیا اور پاکستان پہنچ کر اپنے وقف کے عہد پر پورا اترتے ہوئے اپنی خدمات سلسلے کے حضور پیش کر دیں۔ربوہ میں کمپیوٹر کے شعبے کا آغاز کرنے اور پھر اسے جدید ترین ترقی یافتہ خطوط پر ڈھالنے کی ان کو توفیق ملی۔وہاں بہت ہی عظیم کام ہو رہے ہیں۔کمپیوٹر میں، پوری ٹیم تیار ہو گئی ہے اور ان کا نظام دنیا کے کسی ملک سے پیچھے نہیں ہے۔جدید ترین سہولتیں مہیا کی گئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل ہمارے بہت سے کام جو زیادہ کاموں کے اجتماع کی وجہ سے یہاں نہیں کیے جا سکتے وہ ہم وہاں ربوہ بھیجتے ہیں اور وہاں کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ ہمارے اس