مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 44 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 44

44 ہوئے ہیں اور پوری تفاصیل معلوم کر کے رہیں گے انشاء اللہ۔لیکن جو آب تک معلوم ہو چکا ہے اس پر بناء کرتے ہوئے آپ کو یقین کے ساتھ بتا سکتا ہوں کہ کوائف کیا ہیں۔ان کا اغواء لشکر جھنگوی کے چار اشتہاری بد معاشوں نے جن کا سرغنہ لشکر جھنگوی کا ایک نہایت بد نام زمانہ مولوی تھا اور یہ چاروں مفرور مجرم پولیس کو انتہائی خطرناک جرائم کے ارتکاب میں اس درجہ مطلوب تھے کہ ان میں سے ہر ایک کے سر کی قیمت حکومت نے بیس بیس لاکھ مقرر کر رکھی تھی۔یعنی بد بخت ملا جو اس کا سر براہ تھا اور باقی پیشہ ور بد معاش جو ان کی ملازمت میں رہتے ہیں۔ان سب کے سروں کی بیس (20) بیس (20) لاکھ قیمت مقرر کر رکھی تھی۔اس قسم کے منظم جرائم کے ماہرین سے ہم نے مشورہ کیا ہے۔ان کی قطعی رائے یہ ہے کہ ان کو شیعوں پر خطرناک حملہ کرنے کے الزام میں ملوث کیا جائے کیونکہ محرم کا زمانہ ہے اس لئے دنیا پر یہ ظاہر کرنا تھا اور سارے ملک میں یہ کہہ کے آگ لگانی تھی کہ بے چارے سپاہ صحابہ پر تو خواہ مخواہ الزام آتے ہیں۔اصلی بد معاشی جماعت احمدیہ کر رہی ہے اور مُحَرَّم وغیرہ کے موقع پر جو ملک گیر فسادات ہوتے ہیں ان میں یہ ذمہ دار ہیں۔اور اگر یہ پتا چل جائے کہ جماعت احمدیہ ملوث ہے تو پھر وہ ملک گیر فسادات بہت زیادہ ہولناک صورت اختیار کر سکتے تھے۔بے شمار احمدی معصوموں کی جانیں ان کے رحم و کرم پر ہوتیں۔جو رحم و کرم کا نام تک نہیں جانتے۔چنانچہ ماہرین بڑی قطعیت کے ساتھ یہ کہتے ہیں اور ان کے پاس یہ کہنے کی وجوہات موجود ہیں۔ان کی کارسمیت ان کی لاش کو، وہ کہتے ہیں کہ جلا دینا مقصود تھا۔جس میں دہشت گردی کے جدید ترین ہتھیار مثلاً راکٹ