مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 348 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 348

348 مصروف تھے اپنے بیوی اور بچوں کو بھی پورا وقت دیتے۔ان کی قربانی کے بعد ان کی بچی کے اسکول میں نمائش تھی اس نمائش میں قادر کی بیٹی سطوت بھی ہاتھ کی بنی ہوئی چند چیزیں لائی جو اس نے قادر کے ساتھ مل کر بنائی تھیں۔قادر جب ہم سے جدا ہوا تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد میں پہلی قر بانی تھی۔یہ سعادت شاید اوروں کو بھی نصیب ہو لیکن قادر ہمیشہ اول رہے گا۔اس نے علم کے میدان میں اول پوزیشن لے کر ہمارے سر فخر سے بلند کئے۔اس نے جماعت میں کمپیوٹر کا نظام جاری کر کے ایک امتیازی وو۔حیثیت حاصل کی۔اس نے اپنے والدین کی ایسی خدمت کی کہ جب اس کا جنازہ اُٹھا ہے تو اس کی والدہ کی بلند آواز میں بار بار یہ دہراتی تھیں۔خدایا تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں ایسا بیٹا دیا " قادر جزاک اللہ اصل میں یہ ہے پاؤں تلے جنت ہونا کہ کسی بیٹے کی ماں اسے ان جملوں کے ساتھ رخصت کرے اور کتنے ایسے خوش نصیب ہوں گے جن کو خلیفہ وقت ایسا زبردست خراج تحسین پیش کرے اور ان کے ساتھ اتنی محبت کا اظہار کرے جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح الربع ایدہ اللہ تعالیٰ نے قادر کے ساتھ کیا۔اس کی بیوی اور بچوں کے جذبات قلم بند کرنا تو ناممکن ہے مگر یہ ایک دم صبر کا نمونہ تھے جسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔یہی دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا یہ صبر قبول فرمائے ، ان کی خود حفاظت کرے اور ان بچوں کو اپنے والد محترم کی تمام خوبیوں کا وارث بنائے۔آمین روزنامه الفضل 15 مئی 1999ء