مرزا غلام قادر احمد — Page 315
315 نالۂ شب سے نصیب نصیب اپنا جگا لیتے ہیں دل کو اک شرف عطا کر کے چلے جاتے ہیں اجنبی غم مرے محسن مرا کیا لیتے ہیں ہم سب جانتے ہیں کہ حضور کا دردمند دل کسی کو دُکھی نہیں دیکھ سکتا۔سب کے دُکھ اپنے سینے میں سمیٹ سمیٹ کر حضور کی صحت پر اثر پڑا تھا اُداس، غمگین، رلا دینے والی غزلیں سنتے۔اردو کلاس میں قادر کی تصویر کے ساتھ ، عبید اللہ علیم کی غزل کے اشعار سنوائے تو محسوس ہوا یہ اسی موقع کے لئے کہے گئے تھے۔کون سی آنکھ تھی جو اشکبار نہ تھی بے حد موثر غزل ہے۔زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لئے تو آسمان سے اُترا خدا ہمارے لئے انہیں غرور کہ رکھتے ہیں طاقت و کثرت ہمیں ناز بہت ہے خدا ہمارے لئے تمہارے نام پر جس آگ پر جلائے گئے وہ آگ پھول ہے وہ کیمیا ہمارے لئے بس ایک لو میں اُسی لو کے گرد گھومتے ہیں جلا رکھا ہے جو اُس نے دیا ہمارے لئے وہ جس پہ رات ستارے لئے اُترتی ہے وہ ایک شخص دعا ہی دعا ہمارے لئے وہ نور نور دمکتا ہوا سا اک چهره وہ آئینوں میں حیا ہی حیا ہمارے لئے درود پڑھتے ہوئے اُس کی دید کو نکلیں