مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 314 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 314

314 فرمایا:- دو جو خدا کو ہوئے پیارے، میرے پیارے ہیں وہی ترے کام ہیں مولا مجھے دے صبر و ثبات ہے وہی راہ کٹھن بوجھ بھی بھارے ہیں وہی 23 اپریل 1999ء کے خطبہ جمعہ میں اپنی دلی کیفیت کا اظہار یوں اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ہم اگر چہ بظاہر روتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ساتھ استغفار کی بھی توفیق ملتی ہے کہ رو کس بات پر رہے ہو اتنا بڑا اعزاز ، ایک انسان بے اختیار ہو جاتا ہے چنانچہ وہ رات جو مجھ پر گزری وہ ان باتوں کی کشمکش میں گزری تقریباً رات بھر نہیں سو سکا کہ اچانک غم قبضہ کرتا ہے اور پھر استغفار کا خیال آکر استغفار پڑہتے سوتا تھا اور آنکھ کھلتی تھی غم کی شدت سے اور استغفار شروع ہو جاتا تھا تو بلاشبہ ساری رات کروٹوں میں کئی ہے انہی دو باتوں میں اور اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ وہ بار بار استغفار کی طرف توجہ دلاتا رہا کیونکہ ایسی شہادت کے اوپر زیادہ غم کرنا خدا کو پسند نہیں اور مجھ سے بشری غلطی ہوتی رہی ہے اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس کی اصلاح بھی فرما دی اور بار بار مجھے استغفار کی طرف توجہ دلائی۔(خطبه جمعه فرموده 23 اپریل 1999ء) آنکھ ہے میری کہ اشکوں کی ہے اک راہ گزر دل ہے یا ہے کوئی مہمان سرائے غم و حزن ہے یہ سینہ کہ جواں مرگ اُمنگوں کا مزار اک زیارت گہِ صد قافلہ ہائے غم و حزن خانہ دل میں اتر کر یہ فقیروں کے