مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 30 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 30

30 خراب خراب خیال آرہے تھے مگر دل کو ڈھارس دینے کے لئے ہوا کے جھونکے کی طرح ایک پرانی یاد آ گئی۔قادر کی شادی کے لئے استخارے میں محترم صوفی غلام محمد صاحب نے ایک خواب دیکھا تھا۔اُس کی تعبیر بتائی تھی کہ طویل عمر پائے گا۔اس مایوسی میں آس کا اک ستارہ جھلملایا۔صدیوں کا سفر کاٹ کر ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر مرزا مبشر احمد نے کہا آپ لوگ واپس جائیں ہم بعد میں آتے ہیں۔بعض درد ناک حقائق ایسے ہوتے ہیں جنہیں بیان کرنے کے لئے الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔بھیک مانگنے والے ہاتھ درگاہ الہی میں اُٹھے رہ گئے۔خالق تقدیر کا حکم نازل ہو چکا تھا۔فضل تیرا یا رب یا کوئی ابتلاء ہو ہو راضی ہیں ہم اُسی میں جس میں تری رضا ہو وہ ماں جس نے چند ثانیے پہلے اپنے جواں سال جگر کے ٹکڑے کی درد ناک وفات کی خبر سنی تھی۔صبر وشکر کی تصویر بنی راضی بہ رضا خاموش لبوں خشک آنکھوں اور تڑپتے دل کے ساتھ واپس کار میں بیٹھ گئی۔صوفی صاحب کے خواب کی تعبیر سچ ہو گئی تھی وہ کس قدر طویل عمر پا گیا۔ہمیشہ کے لئے موت کو شکست دے دی۔زندہ جاوید ہو گیا۔قادر ایک ہر دلعزیز شخصیت تھے۔اغواء اور انتقال کی درد انگیز خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔اہلِ ربوہ آئے دن جبر و تشدد ظلم و زیادتی اور کرب و بلاء کی خبریں سنتے رہتے ہیں مگر خاندان مسیح موعود سے غیر معمولی محبت و عقیدت اور صاحبزادہ صاحب کی نافع الناس شخصیت کی مقبولیت کی وجہ سے جس نے یہ خبر سنی، دل تھام کر رہ گیا۔جس کا بس چلا چنیوٹ کی طرف روانہ ہوگیا۔ابدی نیند سوئے ہوئے پُر سکون چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لئے وہ اپنے گرد و پیش سے بے نیاز ہو چکے تھے ہسپتال میں جمع ہونے والے لوگوں میں