مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 31 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 31

31 غیر از جماعت بھی تھے۔اُن کے غیر معمولی تا بندہ چہرے کو دیکھ کر بے اختیار کہتے: ہائے ظالموں نے اس فرشتے کو کیوں مار دیا۔اُن میں سے کچھ لوگ ظالم اغواء کنندگان اور قاتلوں کو گالیاں دے رہے تھے۔پولیس کی کاروائی مکمل ہونے پر میت ربوہ لائی گئی۔”ہم اپنے غم و حزن اپنے مولا کے حضور ہی بیان کرتے ہیں“ کی تصویر بنے لوگ گروہ در گروہ " الفارس" پہنچنا شروع ہو گئے۔بوڑھے باپ کا جواں سال بیٹا شہید ہو چکا تھا۔وہ صبر کا پیکر بنے ہوئے لوگوں کو دلاسہ دے رہے تھے کہ جس کے پاس وہ گیا ہے وہ سب سے پیارا ہے۔بلانے والا ہے سب سے پیارا اُسی پہ اے دل تو جاں فدا کر خواتین و احباب جو وہاں پہنچ رہے تھے یا کسی وجہ سے حاضر نہ ہو سکتے تھے سب دعاؤں میں مصروف تھے۔ایک جذ بہ ایسا تھا جو سب میں مشترک تھا۔کہ جب پیارے آقا کو خبر ملے گی تو اُن کا کیا حال ہو گا؟ جواں سال بیٹا کفن پہنے سو رہا تھا۔ہر آنکھ اشکبار تھی۔ماں کا دل خدا کے حضور سراپا التجا بنا ہوا تھا۔پل پل نئی نئی خبریں آ رہی تھیں۔نئے نئے خیال سر اُٹھا رہے تھے۔اگر ظالم اُسے اغواء کر کے لے جاتے نہ جانے اُس کے ساتھ کیا سلوک کرتے۔اگر گاڑی میں بیوی بچے ہوتے تو کیا ہوتا۔یہ بھی شکر کا انوکھا طریق ہے کہ قربان ہونے والا بچہ آنکھوں کے سامنے ہے مگر دل خدا تعالیٰ کی حمد اور صبر و شکر میں ڈوبے ہوئے تھے۔وہ شان سے جیا تھا شان سے مرا۔ماں کے منہ سے ” جزاک اللہ قادر جزاک اللہ بے ساختہ نکلتا رہا۔جنت تو ماؤں کے قدموں کے نیچے ہوتی ہے یہ کیا فضلِ خداوندی ہے کہ بیٹے کی قربانی سے ماں کو بیٹے کے قدموں سے جنت مل رہی ہے؟ وہی کمرہ