مرزا غلام قادر احمد — Page 29
29 سیٹ پر بیٹھے ہوئے ڈاکو سے پکار کر کہا: ”اس شخص کو کسی نے گولی مار دی ہے۔آؤ مدد کرو، اس کو اپنی کار میں ڈال کر ہسپتال پہنچا دو۔“ وہ بد باطن تیزی سے کار سے اُترا اور اپنے خونخوار ساتھیوں کی کار میں جا بیٹھا۔اتنے میں ٹریفک کھل گئی اور وہ کار اسٹارٹ کر کے فرار ہو گئے۔پیچھے ایک بس تھی۔اس راہگیر نے بس کے ڈرائیور کی مدد سے زخمی قادر کو گاڑی میں ڈالا۔خون بہتا جا رہا تھا اور انہوں نے اپنی زخمی جگہ کو زور سے ہاتھ سے دبایا ہوا تھا اور بالکل خاموش تھے۔کوئی ہائے وائے نہیں کر رہے تھے۔سول ہسپتال چنیوٹ پہنچ کر آپ نے اپنے والد کا فون نمبر اور نام بتایا اور کہا کہ انہیں کہیں کہ جلدی ڈاکٹر مبشر کو لے کر آئیں۔چنیوٹ سول ہسپتال پہنچنے تک موت زندگی کی کشمکش جاری تھی۔تھوڑی دیر میں آپ کا انتقال ہو گیا۔عاشقوں کا شوق قربانی تو دیکھ خون کی اس رہ میں ارزانی تو دیکھ ہے اکیلا کفر سے زور آزما احمدی کی رُوح ایمانی تو دیکھ 9 بجے یہ پیغام گھر پر ملا۔قادر کی نازک حالت کا سوچ کر جلدی پہنچنا ضروری تھا مگر کار تو قادر کے پاس تھی۔بڑی بہن جہلم سے آئی ہوئی تھیں۔اُن کی کار میں قادر کے والدین اور بہنوئی مرزا نصیر احمد صاحب چنیوٹ کی طرف روانہ ہوئے۔لگتا تھا چنیوٹ کے فاصلے کبھی نہ سمٹیں گے۔بن جل مچھلی کی طرح تڑپتی ماں کے لبوں پر مضطرب دعا ئیں تھیں، سراپا پکار بنی آسمان کو دیکھ رہی تھیں۔تقدیر یہی ہے تو یہ تقدیر بدل دے تو مالک تحریر ہے تحریر بدل دے