مرزا غلام قادر احمد — Page 274
274 ہو تو خدا تعالیٰ مجھے کوئی بشارت دے دیتا ہے چونکہ ان دنوں ذہن صرف رشتہ کی طرف تھا کسی اور دُعا کی طرف توجہ بالکل نہ تھی لیکن عجیب خواب دیکھا۔میری آنکھ کھلی دھ کھلی یعنی غنودگی میں میری زباں پر یہ الفاظ تھے۔گویا دوباره ورود مسعود ہوگا“ یعنی قادر کی ذات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جب میں اس غنودگی سے نکلی تو زور زور سے اَسْتَغْفِرُ اللهِ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ“ پڑھ رہی تھی کہ یہ کیا میری زبان سے نکلا لیکن یہ سب غیر ارادی تھا۔میں نے مدت تک خواب کسی کو نہیں بتایا طبیعت میں ایک خوف سا تھا۔لیکن مولوی صاحب کے استخارے دوبارہ دیکھے تو خیال آیا لکھ دوں۔منجھلے ماموں جان نے بھی تو لکھا ہے کہ خدا بہتر جانتا ہے کہ خوا ہیں کب اور کس صورت میں پوری ہوں گی۔“ قادر کے رشتے کی دوسری تجویز اُن کی مرضی اور خواہش پر امۃ الناصر نصرت صاحبہ سے ہوئی جو محترم سید داؤد احمد صاحب ابنِ حضرت میر محمد اسحق صاحب اور صاحبزادی امتہ الباسط صاحبہ بنتِ حضرت مصلح موعود کی بیٹی ہیں۔اس رشتہ کے بابرکت ہونے کے لئے بہت دعائیں ہوئیں یہ رشتہ آسمان پر مقدر تھا تواتر سے خدا تعالیٰ کی رضا کے اشارے ملے ابھی نصرت کے گھر رشتے کا پیغام بھی نہیں گیا تھا کہ قادر کی پھوپھی محترمہ امتہ اللطیف صاحبہ کو آواز آئی کہ ” قادر کا رشتہ نصرت سے ہو گا“ دوسری پھوپھی محترمہ امتہ المجید صاحبہ