مرزا غلام قادر احمد — Page 275
275 نے خواب میں ایک نیلے رنگ کا لفافہ دیکھا جیسے اُن کے ذہن میں ہے کہ اس میں نصرت کے لئے قادر کا پیغام ہے اور اُس لفافے پر دستخطوں کی صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھا ہوا ہے خواب ہی میں وہ سوچتی ہیں کاش یہ میرے گھر آتا۔۔نصرت بتاتی ہیں کہ وہ اپنی امی کی نصیحت کے مطابق حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی ہدایت پر عمل کرتیں کہ بچوں کو اپنے ٹیک نصیب کے لئے دُعا کرنی چاہے اُن کی دُعا میں یہ جملہ شامل رہتا کہ: وو ” مولا کریم ہم عمروں میں جو تجھے سب سے پیارا ہو اُس سے میرا نصیب باندھنا۔“ یہ الہی تصرف تھا کہ جو رشتے نصرت کے لئے آرہے تھے اُن میں سے کسی پر شرح صدر نہیں ہو رہا تھا جب قادر کا رشتہ آیا اور استخارے ہوئے تو اطمینان کی صورت نظر آئی۔محترم صوفی غلام محمد صاحب کی خدمت میں دُعا کی خصوصی درخواست کی گئی۔صوفی صاحب دُعائے استخارہ کر کے سوئے تو خواب میں قرآن شریف کے آخری پارہ کی پہلی سورۃ پڑھی۔دوسرے رکوع کے نصف کے قریب بیدار ہو گئے۔اس کی تعبیر بہت اچھی ہے۔عظم شانہ و ذکرہ بالجبل یعنی جس نے یہ سورۃ یا اس کا کوئی بھی حصہ پڑھا اس کی شان بہت بلند ہوگی اور اس کا ذکر ملک میں بہت اچھا ہوگا علاوہ ازیں یہ بھی ہے کہ مخلوق کی طرف اس کی محبت ڈالی جائے گی۔عمر طویل ہوگی۔خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں رشتے کیلئے دعا کی درخواست کی گئی آپ نے دستِ مبارک۔سے جواب عنایت فرمایا۔