مرزا غلام قادر احمد — Page 267
267 پھر یکا یک دیکھتی ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ہوں۔ان کے دائیں جانب قد آدم سے اوپر ایک ہالہ سا گھلتا ہے۔آسمان بالکل صاف، نیلا اور دن کا اچھا حصہ ہے۔اور یہ ہالہ بار بار کھلتا ہے۔پھر اس ہالہ کے اندر ایک خوبصورت نوجوان بادامی اور سنہری رنگ کے مغلیہ لباس اور کلاہ کے پوشاک میں ظاہر ہوتے ہیں۔ان کے ہاتھ میں ایک بہت بڑی پر شوکت تلوار ہوتی ہے۔مد مقابل کوئی نظر نہیں آتا۔وہ اس سے ضرب لگاتے ہیں۔تو کبھی ہلکی کبھی بھاری ضرب کی چوٹ کی آواز آتی ہے گویا کسی دھات کی چیز سے ٹکرا رہی ہو۔کبھی مقابلہ میں کسی کو دھکیلتے نظر آتے ہیں۔کسی کی ضرب دیکھ کر روکتے نظر آتے ہیں۔گویا انہیں تو کوئی نظر آ رہا ہے جو برسر پیکار ہے۔میں حضور اقدس کے بازو ( ہاتھ سے اوپر والا حصہ) پر ہاتھ رکھتی ہوں۔حضور بھی انہیں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔حضور اقدس میری طرف متوجہ ہوتے ہیں۔عرض کرتی ہوں۔حضور ! یہ کون ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پورا بازو بہت فخریہ انداز میں ان نوجوان کی طرف بلند کر کے فرماتے ہیں۔دیکھیں! یہ ایک خوبصورت نوجوان، بہادر، دلیر شہزادہ اپنے خاندان کا پہلا شہید ہے اور دیکھیں کسی بہادری اور دلیری سے لڑ رہا ہے؟ اور اپنے دشمنوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔اُس وقت مجھے علم نہیں تھا کہ اپنے خاندان سے مراد حضور کا ہی خاندان ہو گا۔میں سوچتی ہوں کہ یہ شہید ہیں اور ابھی زندہ لڑ بھی رہے ہیں۔میں ڈر گئی میں نے خواب کسی کو بھی نہ سُنایا پھر شہادت کی خبر سنی میں بہت روئی جب میرے ابو آئے میں نے اُن کو یہ خواب سنائی اور پھر یہ ہوا کہ ایک بار جب میں امی ابو جان سے ملنے لاہور گئی گھر میں صوفے پر بیٹھنے ہی لگی تھی کہ نظر سامنے پڑے کمپیوٹر کے ایک رسالے پر پڑی اور میں بیٹھتے بیٹھتے اٹھ گئی۔میں نے کہا