مرزا غلام قادر احمد — Page 222
222 زبان سے اظہار کی محتاج نہیں ہوتی۔ایمانداری کا ایک واقعہ: مکرم نعیم اللہ صاحب ملہی نے آپ کی ایمانداری کا درج ذیل واقعہ بھی بیان کیا:- ”جب تحریک جدید کے نمائندہ کی حیثیت سے لندن گئے۔تو کسی ایک پارٹی سے نو پیاں لے کر آگے دوسری پارٹی کو فروخت کے لئے دینا تھیں۔اس سلسلہ میں ایک کارکن مکرم منصور احمد صاحب کی ڈیوٹی لگائی اور ایڈرس وغیرہ سمجھا گئے۔کچھ عرصہ بعد جب لندن سے واپس آئے تو ایک دن منصور صاحب کو بلایا اور کچھ رقم دی۔منصور صاحب نے حیرانگی سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو میاں قادر صاحب نے بتایا کہ آپ کے ذمہ جو کام لگایا تھا کہ فلاں پارٹی کو ٹوپیاں پہنچا دیں تو وہ ٹوپیاں پکنے کے بعد جو منافع ہوا ہے اس میں سے یہ آپ کا حصہ ہے۔اس بارہ میں متعلقہ کارکن مکرم منصور احمد صاحب بیان فرماتے ہیں۔کہ نہ تو میں نے ان ٹوپیوں کی خریداری میں کوئی ذاتی رقم لگائی تھی اور نہ ہی مجھے کوئی بہت زیادہ محنت کرنا پڑی تھی۔لیکن میاں صاحب نے مجھے اس لئے اس منافع میں سے حصہ دے دیا کہ میں وہ ٹو پیاں متعلقہ اشخاص تک محض چھوڑنے گیا تھا۔یہ ان کی اعلیٰ ظرفی تھی وگرنہ میں نے تو کوئی مطالبہ بھی نہ کیا تھا“۔جرات و فرض شناسی : کلیم احمد قریشی صاحب نے بتایا کہ خُدام الاحمدیہ کے دور میں بھی جو