مرزا غلام قادر احمد — Page 221
221 آپ وقت اور مقام سے بے نیاز سختی سے ایسے اصولوں پر عمل پیرا تھے۔وگرنہ آپ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ یہ کون سا ٹائم ہے ٹیو میں واپس کرنے کا۔مگر نہیں آپ کے نزدیک جس کی چیز تھی اُسے پورا حق حاصل ہے کہ وہ جب چاہے مانگ لے یقیناً جو لوگ خدا کے کاموں میں لگے ہوتے ہیں خدا اُن کے کام بھی اسی طرح کیا کرتا ہے۔کارکن سے محبت کا غیر معمولی واقعہ: محترم قادر صاحب کی ماتحتی میں کام کرنے والے تمام کارکن اس بات پر متفق تھے کہ انہوں نے دس سال کے عرصہ میں کبھی قادر صاحب کو اس قدر غصہ اور جلال میں نہیں دیکھا جتنا وہ ایک روز ایک کارکن کی ناگہانی بے ہوشی کے وقت غصہ میں آئے۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ مکرم احسان محمد صاحب کسی بیماری کے باعث ایک بار دفتر میں بے ہوش ہو گئے۔کارکنان نے ہوش میں لانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔انہوں نے میاں صاحب کو بتایا تو میاں صاحب نے فوراً فضلِ عمر اسپتال میں فون کیا کہ فوراً ایمبولینس بھیج دیں اسی دوران آپ انتہائی بے قراری سے اپنے کارکن کے ہاتھ اور سر وغیرہ سہلاتے رہے تا کہ کسی طرح خون کی گردش جاری رہے۔عجب بے چینی کا سماں تھا کہ کسی کو پانی لانے کا کہہ رہے ہیں تو کبھی فون کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ایمبولینس نے آنے میں ذرا دیر لگائی آپ بار بار ایک کرب کی حالت میں اسپتال فون کرتے رہے۔حتی کہ اسپتال والوں پر سخت ناراض بھی ہوئے اور دیر سے ایمبولینس لانے پر سرزنش بھی کی۔آپ کے اس رویہ میں کوئی تصنع یا بناوٹ نہ تھی بلکہ واقعتا یہ اُس سچی محبت کا اثر تھا جو آپ کو اپنے کارکنان سے تھی۔ہاں یہ درست ہے کہ آپ خاموش محبت کرنے والے تھے وہ محبت جو