مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 223 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 223

223 کام کسی سے کہتے خود بھی اُس پر عمل کرتے ایک رات، دوسرے خدام کی طرح، آپ بھی دفتر مقامی میں پہرہ کی ڈیوٹی پر تھے کسی خادم نے آ کر رپورٹ دی کہ ایک کوارٹر خالی ہے لیکن اندر سے کچھ آوازیں آرہی ہیں شبہ تھا کہ کوئی چور گھس گیا ہو گا اس پر موجود خُدام حالات کا جائزہ لینے کے لئے پہنچے قادر صاحب نے کسی اور کو نہیں کہا خود نہایت جرأت سے دیوار پھاند کر صحن میں کود گئے اور اندر جا کر دیکھا تو کچھ بھی غیر معمولی نہ تھا باہر آکر خُدام کو بتایا کہ میں نے جائزہ لے لیا ہے سب خیریت ہے۔حق کے اظہار میں جرات : ایک دفعہ دارالضیافت کے قریب چند نوجوان پجارو میں جا رہے تھے۔سامنے سے ایک غریب سا لڑکا سائیکل پر آ رہا تھا اُس کو گاڑی کی سائیڈ مار دی وہ غریب گر گیا۔وہ لڑکے گاڑی روک کر اُلٹا اُسی کو برا بھلا کہنے لگے۔میاں صاحب بھی اُدھر سے جا رہے تھے۔یہ نظارہ دیکھا تو گاڑی روک کر اُترے اور بڑے جلال سے اُن لڑکوں کو ڈانٹا کہ ایک تو تم لوگوں نے خود اُس کو گرایا ہے۔اب اُس کو مار رہے ہو اُس کا قصور صرف اس قدر ہے کہ وہ غریب ہے تم پجارو پر ہو وہ سائیکل پر ہے۔میں یہ زیادتی نہیں کرنے دوں گا۔وہ تین چار لڑکے تھے۔مرعوب ہو گئے کسی میں ہمت نہ ہوئی کہ آگے سے کچھ کہتا۔( یہ واقعہ احسان محمد صاحب کارکن دفتر وصیت نے سنایا)۔