مرزا غلام قادر احمد — Page 28
28 کو اب ایک ڈاکو چلا رہا تھا آگے تھی اور قادر پچھلی کار میں تھے۔کاروں کا رُخ چینوٹ کی طرف تھا وہ اغواء ہو چکے تھے۔اُن کے اغواء کنندگان خوفناک ڈاکو تھے۔کار میں بہت اسلحہ تھا۔سح مجرم جب سفاک بھی ہو تو اُس سے مقابلہ نہیں کیا جاتا۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ پست ذہنیت والے اغواء کنندگان نے ایسی بڑیں ماری ہوں گی جن سے قادر پر اُن کے منصوبے کی کمینگی کھل گئی۔اگر کار چوری کرنا ہوتی یا قادر کو جان سے مارنا ہوتا تو دوسری طرف ویران راستہ تھا وہ آسانی سے سنسان علاقے کی طرف جا کر اپنے یہ مقاصد پورے کر سکتے تھے۔مگر اُن کا مقصد شیعہ جلسے میں فتنہ و فساد پیدا کر کے جماعت کو ملوث کرنا تھا۔منصوبہ بہت بڑے پیمانے پر بنایا گیا تھا۔ربوہ کے جوان کو احمد نگر سے گاڑی میں بٹھا کر سارا ربوہ کا علاقہ گزار کر چنیوٹ کا رُخ کرنا پُر خطر راستہ تھا۔قادر کا دماغ کمپیوٹر کے ماہر کا دماغ تھا۔لمحوں میں سب اندازہ لگا کر خطرناک سازش کے بد اثرات سے جماعت کو محفوظ رکھنے کے لئے جان کی بازی ہار دی۔۔۔۔۔قادر نے اپنا لہو ارزاں کر دیا۔جان خدا کے سپرد کی اور کوشش کی کہ کسی طرح کار سے نکلا جائے۔ڈاکوؤں نے اُن کی میت بھانپ کر تشد د شروع کیا۔گلا گھونٹ کر مارنے کی کوشش کی۔خنجر سے مار مار کر لہو لہان کر دیا۔چلتی گاڑی میں شدید زد و کوب کیا۔بے بس زخمی کی مزاحمت کی کوشش جاری تھی کہ دریائے چناب کے شرقی پل پر ٹریفک بند ہو گئی۔شدید کوشش سے جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے وہ کار کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گئے۔کار سے نکل کر اتنی ہمت باقی تھی کہ بھاگ سکیں مگر ظالموں نے فائر کھول دیا آپ سڑک پر گرے۔خون تیزی سے بہنے لگا۔لوگ جمع ہو گئے۔ایک راہ گیر (غیر از جماعت) نے جو موٹر سائیکل پر تھا قادر کو شدید زخمی حالت میں دیکھا تو انجانے میں قادر کی گاڑی کی ڈرائیونگ ا