مرزا غلام قادر احمد — Page 27
27 باتیں کر رہے تھے۔نصرت نے تین دن پہلے ہی سیالکوٹ میں وہ کمرہ دیکھا تھا جس کو چار سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قیام کا شرف حاصل ہوا تھا۔اس کمرے سے نصرت کے دل میں محبت و عقیدت کا عجیب احساس پیدا ہوا تھا جب سے واپس آئی تھیں دل و ہیں اٹکا ہوا تھا طبیعت پر بوجھل سی اُداسی تھی۔یہی باتیں کرتے ہوئے بچوں کو اسکول کے لئے تیار کیا۔قادر بچوں کو اسکول چھوڑنے گئے۔تنہائی نے اُداسی کو بے قابو کر دیا۔نصرت کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔قادر نے بچوں کو اسکول چھوڑا ، گھر آئے اب اُن کو کام کے لئے رخصت ہونا تھا۔نصرت نے بھیگی آنکھوں سے محبوب شوہر کو الوداع کہا۔وہ مسکراتا ہوا چہرہ جو ہمیشہ کے لئے کھو گیا۔آٹھ بجے قادر اپنی امی سے کہہ رہے تھے۔گاڑی لے کر جارہا ہوں کچھ کام ہے۔جاؤ بیٹے مگر ابا نے بینک جانا ہے دس بجے تک آجانا۔ساڑھے دس ہو جا ئیں گے۔قادر نے کہا۔امی پر الوداعی نظریں ڈالیں، سلام کیا اور رخصت ہو گئے۔قادر کو احمد نگر اپنی زمینوں پر کچھ کام تھا۔ربوہ کے مشرق میں چنیوٹ اور دریائے چناب ہے جبکہ مغرب میں احمد نگر ہے۔کار میں دس پندرہ منٹ کا راستہ ہے قادر اپنے ابا کی نئی سبز رنگ کی کار نمبر 6021-LOX میں احمد نگر اپنی زمینوں پر پہنچے۔وہاں مزارع وغیرہ موجود تھے۔تھوڑی دیر میں ایک سفید کار (8795-LXE) میں چار آدمی آئے اور ظاہر کیا کہ ہم باغ کا ٹھیکہ لینے آئے ہیں۔قادر نے کہا کہ میں تو اپنا باغ دے چکا ہوں۔میرے چچا کا باغ ہے وہ دیکھ لیں۔قادر اُن کو باغ دکھانے چل دیئے۔ذرا دیر بعد مزارعین نے دیکھا کہ قادر اُن کی کار میں تھے اور کار اُن کا آدمی چلا رہا تھا۔قادر کی کار جس