مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 284 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 284

284 مجھے الفضل والوں نے قادر کے متعلق کچھ لکھنے کے لئے کہا ہے۔اس وقت تو میرے خیالات اس قدر بکھرے ہوئے ہیں کہ بار بار ذہن پر زور دینے کے باوجود بھی صحیح طرح ان کو سمیٹ نہیں سکتی لیکن پھر بھی اپنی سی کوشش کر دیکھتی ہوں۔قادر کی طبیعت ایسی تھی کہ اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا بس میں اکثر اسے کہتی تھی کہ قادر تم آدھا فرشتہ ہو اور وہ خاموشی سے مسکراتا رہتا تھا۔بعض اوقات تو میں اس کی طرف حیرت سے دیکھتی رہ جاتی تھی کہ طبیعت میں اتنی گہری نیکی؟ ایسی سعید فطرت؟ گھر میں بہت بے تکلفی سے رہتا تھا بچوں سے بے حد پیار لیکن ان کی غلط باتوں پر ناراض بھی ہوتا تھا۔ہم سارے اکثر شام کو زمینوں پر جاتے تھے۔وہاں بھی اور گھر میں بھی ہم سارے Cricket کھیل رہے ہوتے تھے کبھی پٹھو گرم یا کبھی اور کوئی بیٹھ کر کھیلنے والی Game کبھی رُعب نہیں جھاڑا گھر میں۔اور آخری بات مجھے اس کی وہ خدمت کبھی نہیں بھول سکتی جو اس نے Twins کی پیدائش کے بعد جب میں بیمار ہوگئی تھی اُس وقت میری کی ہے۔ساری ساری رات اگر میں کہتی تھی کہ قادر مجھے گھبراہٹ ہے تم میرے پاس آ کر بیٹھ جاؤ تو ساری رات میرے پاس بیٹھ کر گزار دیتا تھا۔دن رات ایک کر دیے تھے میرے ساتھ اس نے مجھے یاد ہے جس دن میری زیادہ طبیعت خراب ہوئی اس دن میں رو رہی اور ساتھ ساتھ قادر بھی روتا جاتا تھا میرے دل سے مسلسل اور اب تک اس کے لئے دُعائیں نکلتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر لمحہ اس کے