مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 285 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 285

285 درجات بلند سے بلند تر کرے اور ہم سب کی طرف سے وہاں بھی ہمیشہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رکھے آمین۔شہادت کے بعد جو دشمن کو مات دینے والی فاتحانہ مسکراہٹ اس کے چہرے پر تھی وہ مجھے ہمیشہ یاد رہے گی۔(الفضل 5 مئی 1999ء) مجھے اذنِ مرگ دے کر وہ افق پہ چاند ڈوبا وہ مرا نصیب لے کر کوئی بجھ گیا ستارا قادر کی جانی قربانی کے بعد کبھی یہ شعر سنتی ہوں تو مجھے اپنے حسب حال لگتا ہے۔قادر، میرے گھر کی رونق، جو میرا نصیب لے کر بجھ گیا ہے لیکن اس کا اپنا نصیب آسمانِ احمدیت پر روشن ستارے کی طرح چمک اُٹھا ہے۔الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے یہ سعادت بخشی۔بچپن سے امی سے سنتے تھے کہ بڑی پھوپھی جان (حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ) فرمایا کرتی تھیں کہ لڑکی کو چھوٹی عمر سے اپنے نیک نصیب کے لئے دُعا مانگنی چاہئے اس لئے تم لوگ بھی اپنے لئے دعا مانگا کرو۔میں نے اپنے نیک نصیب کے لئے دُعا مانگنے کے ساتھ یہ دُعا بھی شامل کی کہ یا اللہ میرے ہم عمروں میں جو تجھے سب سے پیارا ہو اس سے میرا نصیب باندھنا اور جب قادر کی جانی قربانی کے کچھ دیر بعد حضرت خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے روتے ہوئے فون پر مجھے یہ فرمایا کہ ” نچھو اللہ تعالیٰ نے اپنے گلشن کا سب سے خوبصورت پھول چن لیا ہے تو چند دن بعد میری توجہ حضور کی اس بات کے ساتھ اپنی اس دُعا کی طرف گئی اور میں نے سوچا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے میری دُعا کو قبول فرما لیا۔محض اس کی عطا ہے ورنہ ہم کس قابل ہیں۔