مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 271 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 271

271 قادر نے نہ صرف انتخاب کے وقت یہ پہلو مد نظر رکھا بلکہ جو حکم ہے کہ قولِ سدید سے کام لیا جائے اس پر بھی پورے اُترے یہ اور بات ہے کہ وہ رشتہ قادر کے مقدر میں نہ تھا کسی وجہ سے طے نہ ہو سکا جس کا اُمی نے بہت اثر لیا۔یہ بچی اللہ تعالیٰ کو پیاری ہو چکی ہے اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے) اپنی امی کے دل کا بوجھ کم کرنے کے لئے قادر نے انہیں ایک خط لکھا جس سے اُن کی بالغ نظری کا اندازہ ہوسکتا ہے۔پیاری امی۔السلام علیکم یہاں سب خیریت ہے۔آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں آخر آپ کو میری بہتری کی ہی فکر ہے نا۔جو کچھ ہونا ہے اس میں بھی تو میری بہتری ہی ہو سکتی ہے۔اور پھر جو چیز جتنی بڑی ہو اس کے لئے قر بانی بھی اتنی بڑی ہی دینی پڑتی ہے آپ کو جو قربانی دینی پڑ رہی ہے اس سے لگتا ہے نتیجہ بہتر ہی نکلے گا پھر ہمارے وقف کی خواہش تو آپ کو ہماری پیدائش سے بھی پہلے کی ہے جب کہ رشتہ کی خواہش تو چند سال پرانی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے دیرینہ اور زیادہ اہم خواہش پوری کر دی۔تو میرا خیال ہے اس کا بھی حق ہے کہ کم از کم شکرانے کے طور پر دوسری خواہش کو بھول جایا جائے۔کیا آپ اس بات پر زیادہ خوش ہوتیں کہ میں وقف نہ کرتا مگر میرا رشتہ ہو جاتا؟ اگر نہیں تو پھر میرے خیال میں پریشان ہونے