مرزا غلام قادر احمد — Page 272
272 کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ شکر کا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دونوں خواہشوں میں سے زیادہ اہم خواہش پوری کر دی۔جہاں پہ بات منوائی جاتی ہے وہاں ماننی بھی تو پڑ جاتی ہے۔جہاں تک دوسرے رشتے کا تعلق ہے تو میں آپ کے خلاف نہیں کروں گا آپ کہیں گی تو اپنے خیالات بدل لوں گا۔یہ نہ سمجھیں کہ اگر پہلی دفعہ ایک حد تک میں نے آپ کی خواہش کا احترام کیا تو دوسری دفعہ آپ کو اپنی خواہش کے احترام کے لئے مجبور کروں گا ہمارے میں کوئی برابری کا تعلق تھوڑا ہے۔دُعاؤں میں یاد رکھیں وقف کے لئے زیادہ۔رشتوں کے لئے کم۔حضرت صاحب کو میں نے اپنی پڑھائی کے متعلق مشورہ کے لئے کل ہی خط لکھا ہے۔غلام قادر 27 اکتوبر 1983ء خطوط انسانی نفسیات کا بے تکلف اور بے ریا آئینہ ہوتے ہیں۔اس خط کو غور سے پڑھنے سے ایک انتہائی فرماں بردار، سعادت مند اور شریف۔النفس بیٹے کا پیکر سامنے آتا ہے جو یہ جانتا ہے کہ اللہ رب العزت سے تعلق رکھنے میں ماننا بھی پڑتا ہے۔وہ اپنے بندوں کے حق میں بہتر فیصلے کرتا ہے۔میں اکیس سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ کی ہستی سے پیار کا انداز قابلِ ستائش ہے۔انہی دنوں قادر اپنی نانی اماں حضرت صاحبزادی نواب امتہ الحفیظ بیگم