مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 270 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 270

270 1983ء کی بات ہے۔قادر کا پہلا رشتہ خالہ کی بیٹی سے تجویز ہوا۔قادر کی اس خالہ زاد کے والد اُسے سات آٹھ سال کا چھوڑ کر فوت ہو گئے تھے۔فطری طور پر آپ کی والدہ صاحبہ کو اپنی چھوٹی بہن کی بچی بہت عزیز تھی۔دس بارہ سال سے اس بچی کی طرف پیار کی نگاہیں اُٹھ رہی تھیں۔یہ بچی ہر لحاظ سے قادر کے لئے مناسب معلوم ہوتی تھی۔ایک دن قادر نے بڑی سنجیدگی سے اپنی امی سے کہا۔امی مجھے آپ سے ایک بات کرنا ہے مگر وعدہ کریں ابھی کسی سے ذکر نہ کریں گی۔اور جو بات قادر نے کی وہ اس سے زیادہ اہم اور خوشکن تھی جہاں تک اُن کا خیال پہنچا تھا۔قادر نے بتایا کہ وہ اپنی زندگی راہِ مولا میں وقف کرنا چاہتے ہیں اور ایمان داری کی بات یہ ہے کہ جہاں رشتہ طے ہو رہا ہے اُسے علم ہو کہ اُن کی ہمراہی شہادت گہہ اُلفت میں قدم رکھنے کے برابر ہوگی۔وقف کے تقاضے اُس پر خوب کھول دیے جائیں۔بچے کا زندگی وقف کرنے کا عزم اگر چہ ماں کی شبانہ روز دعاؤں کا جواب تھا مگر ایسا بیٹا جس کے نہاں خانہ دل پر حجاب کی اوٹ رہتی ہو اور کبھی سن گن بھی نہ ہوئی ہو کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں یکدم اپنی زبان سے اظہار کر دے تو خوشی کا عالم ہی دوسرا ہوتا ہے۔خلاف توقع اتنی بڑی خوشخبری ملنے سے کائنات دل پر حمد وشکر کے آنسوؤں کی بارش ہونے لگی جسم و جاں سے سجدہ شکر بجالائیں آج قادر نے وہ خوشی دی تھی جو سات بادشاہتوں کے مل جانے سے بڑھ کر تھی۔کس زباں سے میں کروں شکر کہاں ہے وہ زباں کہ میں نا چیز ہوں اور رحم فرواں تیرا