غلام فاطمہ بیگم صاحبہؓ، میمونہ بیگم صاحبہؓ — Page 15
غلام فاطمہ بیگم ، میمونہ بیگم 15 اور دوائیں موجود نہیں تھیں۔آپ لوگ رہتے بھی کامٹی میں تھے۔خواتین آپ کو تعویز گنڈے کرانے کا مشورہ دیتیں ، چھری چاقو دم کر کے لاتیں کہ بچے کے پاس رکھیں مگر آپ نے اس قسم کا کوئی شرک نہیں کیا۔آپ بچے کے لئے دعا کرتیں اور رات کو سیکیے کے نیچے صدقے کے پیسے رکھ دیتیں اور صبح صدقہ دے دیتیں۔مولا کریم نے شفا عنایت فرما دی۔غلام فاطمہ بیگم صاحبہ اپنی بیٹیوں کو تاکید کرتیں کہ اپنے گھر اور خاص طور پر سسرال کی باتیں باہر کرنا مناسب نہیں۔آپ مثال ایسی دیتی تھیں جو وہ کبھی نہ بھولتی تھیں۔آپ میں حیا کا بہت مادہ تھا۔پہلے جب ٹوپی والا ہر قع ہوتا تھا تو اُسے آپ سلیقے سے اوڑھتی تھیں بعد میں عام نقاب والے برقعے آئے تو وہ پہنے اور زندگی کے آخری لمحات تک پردے کی پابندی کا خیال رکھا۔غلام فاطمہ بیگم صاحبہ اور ان کی بہن میمونہ بیگم صاحبہ میں بہت محبت تھی۔دونوں بہنیں ایک دوسرے پر جان چھڑکتی تھیں یہی محبت تھی جو اُن کی اولا دوں میں بھی بہت پیار کا سلوک رہا۔غلام فاطمہ بیگم صاحبہ کی بڑی بیٹیاں قادیان میں پڑھتی تھیں اس لئے خاندان مسیح موعود علیہ السلام سے نہ صرف قرب میسر تھا بلکہ بہت محبت اور عقیدت بھی تھی۔ساتھ ہی یہ اُن کی یہ کوشش بھی ہوتی کہ اپنے بچوں کو