غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 30
30 ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ عیب کے حامی بنو بلکہ یہ کہ اشاعت اور غیبت نہ کرو کیونکہ کتاب اللہ میں جیسا آ گیا ہے تو یہ گناہ ہے کہ اس کی اشاعت اور غیبت کی جاوے۔شیخ سعدی کے دوشاگرد تھے ایک ان میں سے حقائق و معارف بیان کیا کرتا تھا دوسرا جلا بھنا کرتا تھا۔آخر پہلے نے سعدی سے بیان کیا کہ جب میں کچھ بیان کرتا ہوں تو دوسرا جلتا ہے اور حسد کرتا ہے شیخ نے جواب دیا کہ ایک نے راہ دوزخ کی اختیار کی کہ حسد کیا اور تو نے غیبت کی۔غرضیکہ یہ سلسلہ چل نہیں سکتا جب تک رحم ، دعا، ستاری اور مرحمہ آپس میں نہ ہو۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 60-61) ( البدر جلد 3 نمبر 26 صفحہ 4 مورخہ 8 جولائی 1904ء) ( نیز الحکم جلد 8 نمبر 23-24 صفحہ 9-10 مورخہ 17-24 جولائی 1904ء) غیبت سے بچو: حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں :- دل تو اللہ تعالیٰ کی صندوقچی ہوتا ہے اور اس کی کنجی اس کے پاس ہوتی ہے۔کسی کو کیا خبر کہ اس کے اندر کیا ہے؟ تو خواہ مخواہ اپنے آپ کو گناہ میں ڈالنا کیا فائدہ؟ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک شخص بڑا گنہگار ہوگا۔خدا تعالیٰ اُس کو کہے گا کہ میرے قریب ہو جا یہاں تک کہ اس کے اور اور لوگوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے پردہ کر دے گا اور اس سے پوچھے گا کہ تو نے فلاں گناہ کیا فلاں گناہ کیا لیکن چھوٹے چھوٹے گناہ گنائے گا۔وہ کہے گا ہاں یہ گناہ مجھ سے ہوئے ہیں۔خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ اچھا آج کے دن میں نے تیرے سارے گناہ معاف کئے اور ہر ایک گناہ کے بدلے دس دس نیکیوں کا ثواب دیا تب وہ بندہ سوچے گا کہ جب ان چھوٹے چھوٹے