غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 29
29 باتوں سے فائدہ نہ ہو تو قضاء وقدر کا معاملہ سمجھے جب خدا تعالیٰ نے ان کو قبول کیا ہوا ہے تو تم کو چاہئے کہ کسی کا عیب دیکھ کر سر دست جوش نہ دکھلایا جاوے۔ممکن ہے کہ وہ درست ہو جاوے قطب اور ابدال سے بھی بعض وقت کوئی عیب سرزد ہو جاتا ہے بلکہ لکھا ہے۔الْقُطْبُ قَدْ يَزْنِی کہ قطب سے بھی زنا ہو جاتا ہے۔بہت سے چور اور زانی آخر کار قطب اور ابدال بن گئے جلدی اور عجلت سے کسی کو ترک کر دینا ہمارا طریق نہیں ہے۔کسی کا بچہ خراب ہو تو اس کی اصلاح کے لئے وہ پوری کوشش کرتا ہے ایسے ہی اپنے کسی بھائی کو ترک نہ کرنا چاہئے۔بلکہ اس کی اصلاح کی پوری کوشش کرنی چاہئے قرآن کریم کی یہ تعلیم ہر گز نہیں ہے کہ عیب دیکھ کر اسے پھیلا ؤ اور دوسروں سے تذکرہ کرتے پھرو بلکہ وہ فرماتا ہے۔تَوَاصَوْ بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْ بِالْمَرْحَمَةِ (البلد : 18) کہ وہ صبر اور رحم سے نصیحت کرتے ہیں۔مرحمہ یہی ہے کہ دوسرے کے عیب دیکھ کر اسے نصیحت کی جاوے اور اس کے لئے دعا بھی کی جاوے۔دعا میں بڑی تاثیر ہے اور وہ شخص بہت ہی قابل افسوس ہے کہ ایک کے عیب کو بیان تو سو مرتبہ کرتا ہے لیکن دعا ایک مرتبہ بھی نہیں کرتا۔عیب کسی کا اس وقت بیان کرنا چاہئے جب پہلے کم از کم چالیس دن اس کے لئے رو رو کر دعا کی ہو۔سعدی نے کہا ہے :- خدا داند بپوشد ہمسایہ ندائد وخر و شد یعنی خدا تعالیٰ تو جان کر پردہ پوشی کرتا ہے مگر ہمسایہ کوعلم نہیں ہوتا اور شور کرتا پھرتا ہے۔خدا تعالیٰ کا نام ستار ہے۔تمہیں چاہئے کہ تَخَلَّقُوا بِاخْلَاقِ اللَّهِ بنو