غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 31
31 گناہوں کا دس دس نیکیوں کا ثواب ملا ہے تو بڑے بڑے گناہوں کا تو بہت ہی ثواب ملے گا یہ سوچ کر وہ بندہ خود ہی اپنے بڑے بڑے گناہ گنائے گا کہ اے خدا میں نے تو یہ گناہ بھی کئے ہیں تب اللہ تعالیٰ اس کی بات سن کر ہنسے گا اور فرمائے گا کہ دیکھو میری مہربانی کی وجہ سے یہ بندہ ایسا دلیر ہو گیا ہے کہ اپنے گناہ خود ہی بتلاتا ہے پھر اُسے حکم دے گا کہ جا بہشت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے تیری طبیعت چاہے داخل ہو جا تو کیا خبر ہے کہ خدا تعالیٰ کا اس سے کیا سلوک ہے یا اس کے دل میں کیا ہے اس لئے غیبت کرنے سے بکلی پر ہیز کرنا چاہئے۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 11، بدر جلد 2 نمبر 10 صفحہ 10 مورخہ 19 مارچ 1906ء) عورتوں کو نصیحت : جون 1906ء کو ایک دفعہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اندرونِ خانہ عورتوں کو نصیحت کی :- غیبت کرنے والے کی نسبت قرآن کریم میں ہے کہ وہ مردہ بھائی کا گوشت کھاتا ہے عورتوں میں یہ بیماری بہت ہے آدھی رات تک بیٹھی غیبت کرتی رہتی ہیں۔اور پھر صبح اُٹھ کر وہی کام شروع کر دیتی ہیں لیکن اس سے بچنا چاہئے۔عورتوں کی خاص سورت قرآن شریف میں ہے حدیث میں آیا ہے آنحضور نے فرمایا کہ میں نے بہشت میں دیکھا کہ فقیر زیادہ تھے اور دوزخ میں دیکھا کہ عورتیں بہت تھیں۔عورتوں میں چند عیب بہت سخت ہیں اور کثرت سے ہیں۔ایک شیخی کرنا کہ ہم ایسے ہیں اور ایسے ہیں پھر یہ کہ قوم پر فخر کرنا کہ فلاں تو کمینی ذات کی عورت ہے یا فلاں ہم سے نیچی ذات کی ہے پھر یہ کہ اگر کوئی غریب عورت ان میں بیٹھی ہوئی ہے تو اس سے نفرت کرتی ہیں اور اس کی طرف اشارہ شروع کر دیتی کہ کیسے غلیظ کپڑے پہنے ہیں زیور اس کے پاس کچھ بھی نہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 29)