غیبت ۔ ایک بدترین گناہ

by Other Authors

Page 24 of 82

غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 24

24 اے مسلمانو ! آپس میں بغض و حسد نہ رکھو اور ایک دوسرے کو پیٹھ پیچھے برا نہ کہا کرو یہ عیوب اخلاص و محبت کی جڑیں کھوکھلی کر دیتے ہیں۔حقیقی عبد بنو اور آپس میں بھائی بن کر رہو۔( بخاری ) اسلام میں اپنی پردہ پوشی کی بھی تلقین ہے: اسلام محض دوسروں کی پردہ پوشی کی ہی تلقین نہیں فرما تا بلکہ خود اپنے راز فاش کرنے کی بھی ممانعت کرتا ہے۔چنانچہ آنحضور ﷺماتے ہیں :- ” میری اُمت میں سے ہر شخص کا گناہ مٹ سکتا ہے یعنی ( تو بہ سے ) مگر جو اپنے گناہوں کا خود اظہار کرتے پھریں ان کا کوئی علاج نہیں پھر فرمایا کہ خود اپنے اظہار کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص رات میں گناہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر پردہ ڈال دیتا ہے مگر صبح کے وقت وہ اپنے دوستوں سے ملتا ہے تو کہتا ہے۔اے فلاں! میں نے رات کو یہ کام کیا۔رات کو خدا اس کے گناہ پر پردہ ڈال رہا تھا صبح یہ گناہ کو خود ننگا کرتا ہے۔( بخاری مسلم) ایک دفعہ رسول کریم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ میں نے زنا کیا ہے حضور نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔اس نے سمجھا شائد حضور نے میری بات نہیں سنی اُس نے دوسری طرف سے ہو کر پھر عرض کی۔آپ نے پھر منہ پھیر لیا۔اس نے پھر سامنے آکر یہی عرض کی آپ نے پھر منہ پھیر لیا جب اس نے چوتھی بار یہی اظہار کیا تب آنحضور نے فرمایا کہ میں تو چاہتا تھا کہ یہ اپنے گناہ کی تشہیر نہ کرے جب تک خدا اس کی گرفت کا فیصلہ نہیں کرتا مگر اس نے چار دفعہ اپنے نفس پر خود گواہی دی اس لئے اب میں مجبور ہوں۔فرمایا اس نے خود الزام لگایا ہے اس عورت نے نہیں۔جس کے متعلق یہ زنا کا دعویٰ کرتا ہے لہذا اس