غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 25
25 عورت سے پوچھو اگر وہ انکار کرے تو اسے کچھ مت کہو اور صرف اس کے اقرار کے مطابق سزا دو لیکن اگر وہ عورت بھی اقرار کرے تو پھر اُسے بھی سزا دو۔( ترمذی ابواب الحدود ) اس حدیث میں خدا کی صفاتِ حسنہ کے مظہر کامل کس قد رفض بصر سے کام لے رہے ہیں کہاں تک ستاری کو آپ کام میں لائے اور بار بار اپنی خاموشی سے اس شخص کو یہ پیغام دیتے رہے کہ جس گناہ پر خدا نے پردہ ڈال دیا ہے اس کا علاج اعلان نہیں بلکہ اخفاء ہے اور تو بہ ہے مگر وہ بد قسمت نہ سمجھ سکا۔پردہ دری، بہتان طرازی غیبت سب زہر قاتل ہیں۔گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے : یہ بات عام مشاہدے میں آئی ہے کہ ہم اکثر جانتے بوجھتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں اور صرف دو الفاظ خیر ہے“ کہہ کر مطمئن ہو جاتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔حضرت وابصہ بن معبہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں آنحضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے فرمایا کیا تم نیکی کے متعلق پوچھنے آئے ہو۔میں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ۔آپ نے فرمایا اپنے دل سے پوچھ نیکی وہ ہے جس پر تیرا دل اور تیرا جی مطمئن ہو اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تیرے لئے اضطراب کا جب بنے۔(مسند احمد بن حنبل صفحه 227/4-228) آنحضور نے نہایت عارفانہ بات بیان فرمائی اگر اسی نقطہ کو انسان سمجھ جائے تو ناممکن ہے کہ انسان کسی برائی کی طرف مائل ہو کیونکہ ہمیشہ جب کسی برائی کی ابتدا ہوتی ہے اس وقت ضمیر اور وجو د انسانی سخت گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں اور وہی وقت