غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 47
47 لیکن اس نے قدر نہ کی اور اس کو ضائع کر دیا جو ہم نے اسے عطا کیا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ انسان گھاٹے میں نہیں پڑتا جو اپنے وقت کا صحیح استعمال کرتا ہے اور اپنی عمر کی ہر گھڑی میں اعمال صالحہ بجالاتا ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالحہ کیا۔اور صداقت کے اصول پر قائم رہے۔اور صبر سے کام لینے کی وہ ایک دوسرے کو تلقین کرتے رہے۔صبر کے معنی استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ نیکی پر قائم ہو جانا یعنی وہ لوگ خود نیکیوں پر قائم رہے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے رہے۔ایسے بہت سے نواہی میں سے جن کے کرنے سے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں روکا ہے اور جو ہمارے اوقات عزیز پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور انہیں ضائع کر دیتے ہیں۔فرمایا :- عورتوں کا میدان عمل ان کا گھر ہے جہاں وہ اپنے بچوں کی تربیت کرتی ہیں۔عبادات بجالاتی ہیں اور اپنے گھر کے ماحول کو خوشگوار بنانے کے لئے محنت کر رہی ہوتی ہیں اور خیال رکھتی ہیں یا کم سے کم انہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ان کے خاوند ، باپ، بھائی، بیٹے اور دوسرے عزیز اور رشتہ دار جو اس گھر میں رہتے ہیں گھر سے نکل کر دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکیں۔غرض عورت کا میدان عمل اُس کا گھر ہے اور گھر میں بہت سے وقت ضائع کرنے والے بھی آجاتے ہیں اور وہ شرم کے مارے انہیں کچھ نہیں کہہ سکتی۔جو چیز ہمارے اوقات پر ڈاکہ ڈالتی ہے وہ جس کی عادت ہے: بعض مرد اور عورتیں اپنے بھائیوں اور بہنوں کی عیب گیری کے لئے مواد کی تلاش اور اس ٹوہ میں لگے رہتے ہیں کہ دوسرے کا کوئی نقص ان کے علم میں آجائے۔ایک عورت دوسری عورت کے پاس جاتی ہے اور کہتی ہے کہ بہن فلاں گل سُنی اے۔