غیبت ۔ ایک بدترین گناہ

by Other Authors

Page 48 of 82

غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 48

48 تینوں پتہ اے کیہ ہو یا اے۔بھلا اس بات سے کیا غرض کہ کیا بات تھی یا کیا ہوا اسے دوسروں کی بجائے اپنی فکر کرنی چاہئے۔اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے لا تَجَسَّسُوا کہ جس سے کام نہ لیا کرو۔اور دوسروں کے عیوب کی ٹوہ میں نہ رہا کرو۔حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آنحضرت کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اگر ہم فرشتوں کو جو آسمانی مخلوق ہیں زمین کی سطح پر عبادت بجالانے اور نیک عمل کرنے کا حکم ہوتا تو ہم تین نیکیاں ضرور کرتے جو اللہ کی نگاہ میں بہت پسندیدہ ہیں ایک ہم مسلمانوں کو پانی پلاتے۔دوسرے ہم عیال دارلوگوں کی مدد کرتے۔تیسری بات جو جبرائیل نے کہی اور میرے مضمون کے ساتھ اسی کا تعلق ہے کہ اگر ہم فرشتوں کو زمین پر عبادت اور نیک اعمال بجالانے کی اجازت ہوتی تو ہم مسلمانوں کے گناہوں اور ان کی کمزوریوں کی پردہ پوشی کرتے۔غرض ہمیں یہ حکم ہے کہ اگر ہمیں کسی کے گناہ کا علم بھی ہو جائے تو اُسے چھپائیں۔ظاہر نہ کریں نہ یہ کہ دوسروں کے عیوب کی تلاش کرنے میں اپنے اوقات ضائع کریں۔نے فرمایا:- اس مسئلہ کے متعلق نبی کریم بڑا سخت ارشاد ہے۔آنحضرت ﷺ کہ دیکھو میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم مسلمانوں کو تکلیف نہ دوان پر عیب نہ لگاؤ اور نہ ان کی کمزوریوں کے پیچھے لگے رہو۔کیونکہ جوشخص بھی تم میں سے مسلمانوں کی کمزوریوں کی تلاش میں لگے گا اور ان عیوب کی ٹوہ میں لگے گا۔اللہ تعالیٰ اس کے عیب کے پیچھے پڑے گا اور اس کو شرمندہ اور بد نام کرے گا خواہ اس نے یہ عیب اپنے گھر میں چھپ کر کیا ہو۔پس اگر ہم میں سے ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ستاری کا پردہ اس کے اوپر پڑار ہے اور اس کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو خدا تعالیٰ ظاہر نہ