غیبت ۔ ایک بدترین گناہ

by Other Authors

Page 45 of 82

غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 45

45 پایا جاتا ہے اور اگر تم کوئی ایسی بات کہو جو اس میں نہ پائی جاتی ہوتو یہ غیبت نہیں بہتان ہو گا۔اب دیکھو رسول کریم ﷺ نے اس مسئلہ کوحل کر دیا اور بتا دیا کہ غیبت اس بات کا نام نہیں کہ تم کسی کا وہ عیب بیان کرو۔جو اس میں پایا ہی نہ جاتا ہو۔اگر تم ایسا کرو صلى الله گے تو تم مفتری ہو۔تم جھوٹے ہو۔تم کذاب ہو۔مگر تم غیبت کرنے والے نہیں۔غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا کوئی سچا عیب اس کی عدم موجودگی میں بیان کرو یہ بھی منع ہے اور اسلام نے اس سے سختی سے روکا ہے مگر باوجود اس کے کہ محمد نے اس بات کو ساڑھے تیرہ سو سال سے حل کر دیا ہے اور قرآن میں اس کا ذکر موجود ہے۔اگر اب بھی کوئی غیبت کر رہا ہو اور اسے کہا جائے کہ تم غیبت کر رہے ہو تو وہ جھٹ کہہ دے گا کہ میں غیبت تو نہیں کر رہا۔میں تو بالکل سچا واقعہ بیان کر رہا ہوں۔حالانکہ ساڑھے تیرہ سو سال گزرے رسول کریم ﷺ یہ فیصلہ سنا چکے اور علی الاعلان اس کا اظہار فرما چکے مگر اب بھی اگر کسی کو روکوتو وہ کہہ دے گا یہ غیبت نہیں یہ تو بالکل سچی بات ہے۔حالانکہ کسی کا اس کی عدم موجودگی میں سچا عیب بیان کرنا ہی غیبت ہے اور اگر وہ جھوٹ ہے تو تم غیبت کرنے والی / والے نہیں۔بلکہ مفتری اور کذاب ہو یہ چیزیں ہیں جن کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے مگر بوجہ اس کے کہ بار باران کے الفاظ کانوں میں پڑتے رہتے ہیں لوگ حقیقت معلوم کرنے کی جستجو نہیں کرتے۔پس ان باتوں پر بار بار زور دو اس امر کو اچھی طرح سمجھ لو کہ جب تک یہ جسم مکمل نہیں ہوگا اس وقت تک مذہب کی روح بھی قائم نہیں رہ سکتی۔گویا ایمان ایک روح ہے اور اخلاق فاضلہ اس روح کا جسم ہیں۔( خطبه جمعه فرموده 28 فروری 1941 مطبوعہ الفضل 14 / مارچ 1941ء) مشعل راه جلد اول مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان صفحہ 270-271)