غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 33
33 بعض گناہ ہوتے ہیں کہ وہ اور بہت سے گناہوں کو بلانے والے ہوتے ہیں۔اگر ان کو نہ چھوڑا جائے تو ان کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص کے بتوں کو تو توڑا جائے مگر بت پرستی کو اس کے دل سے دُور نہ کرایا جائے۔اگر ایک بت کو توڑ دیا تو اس کے عوض سینکڑوں اور تیار ہو سکتے ہیں۔غرض جب تک شرارتوں اور گناہوں کی ماں اور جڑ دُور نہ ہو تب تک کسی نیکی کی اُمید نہیں ہو سکتی اور تا وقتیکہ اصلی جڑ اور اصلی محرک بدی کا دور نہ ہو۔فروعی بدیاں بکلی دور نہیں ہوسکتیں۔جب تک بدیوں کی جڑ نہ کاٹی جاوے۔تب تک تو وہ اور بدیوں کو اپنی طرف کھینچیں گی اور دوسری بدیاں اپنا پیوند اس سے رکھیں گی۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے گناہوں سے بچنے کا ایک گر بتایا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوَ اجْتَنِبُوا كَثِيراً منَ الظَّنِ - إِنَّ بَعْضَ الظَّن اثم ترجمہ: اے ایماندارو! ظن سے بچنا چاہئے کیونکہ بہت سے گناہ اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے:- إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَابُ الْحَدِيثِ۔ایک شخص کسی کے آگے اپنی ضرورتوں کا اظہار کرتا ہے اور اپنے مطلب کو پیش کرتا ہے لیکن اس کے گھر کی حالت کو نہیں جانتا اور اس کی طاقت اور دولت سے بے خبر ہوتا ہے اپنی حاجت براری نہ ہوتے دیکھ کر سمجھتا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر شرارت کی ہے اور میری دستگیری سے منہ موڑا۔تب محض ظن کی بناء پر اس جگہ جہاں اس کی محبت بڑھنی چاہئے تھی عداوت کا بیج بویا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ ان گناہوں تک نوبت پہنچ جاتی ہے جو عداوت کا پھل ہیں۔