غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 32
32 حضرت خلیفتہ است الاول ان تعالی سے راضی ہو ) کے ارشادات گناہ کو حقیر اور چھوٹا نہ سمجھیں : یا درکھو کبھی کسی گناہ کو چھوٹا اور حقیر نہ سمجھو۔چھوٹے سے گناہ سے انسان ایک خطر ناک اور گھیر لینے والے گناہ میں گرفتار ہو جاتا ہے۔تمہیں معلوم نہیں یہ پہاڑ چھوٹے چھوٹے ذرات سے بنتے ہیں یہ عظیم الشان بڑ کا درخت ایک بہت ہی چھوٹے سے بیج سے بنا ہے۔بڑے بڑے اجسام ان ہی بار یک ایٹمی ذرات سے بنے ہیں جو نظر بھی نہیں آتے۔پھر گناہ کے بیج کو کیوں حقیر سمجھتے ہو؟ یا درکھو چھوٹی چھوٹی بدیاں جمع ہو کر آخر پیں ڈالتی ہیں انسان جب چھوٹا سا گناہ کرتا ہے تو اس کے بعد اور گناہ کرتا ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی حد بندی کو تو ڑ کر نکل جاتا ہے۔جس کا نام کبیرہ ہوتا ہے اور پھر راستبازوں کے قتل کی جرات کر بیٹھتا ہے۔اس طرح پر ادنی سی نیکی اگر کرو تو اس سے ایک نورِ معرفت پیدا ہوتا ہے نیکی اور بدی کی شناخت کا انحصار ہے قرآن شریف کے علم پر اور وہ منحصر ہے تقویٰ اور سعی پر “ 66 خطبات نور جلد نمبر 1 صفحہ 115-116) بعض گناہ اور گناہوں کو ملانے والے ہوتے ہیں: حضرت خلیفہ اسیح الاول فرماتے ہیں :-