غیبت ۔ ایک بدترین گناہ

by Other Authors

Page 34 of 82

غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 34

34 یا درکھو! بہت سی بدیوں کی اصل سوء ظن ہے۔نصیحت کے طور پر کہتا ہوں کہ اکثر سورظنہوں سے بچو۔اس سے سخن چینی اور عیب جوئی کی عادت بڑھتی ہے۔اسی واسطے اللہ کریم فرماتا ہے۔وَلاَ تَجَسَّسُوا تجسس نہ کرو تجسس کی عادت بدظنی سے پیدا ہوتی ہے۔بدظنی کو پورا کرنے کے لئے تجسس کرتا ہے اور پھر تجسس سے غیبت پیدا ہوتی ہے۔جیسے اللہ کریم نے فرمایا :- وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضاً ( الحکم 31 اکتوبر 1907 صفحہ 8-9، حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ 5-6) پھر ایک جگہ فرمایا تمام ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔امیر سے غریب تک، شریف سے وضیع تک، اجنبی سے اپنے پرائے ہم قوم تک اور اللہ سے ڈرتے رہوتا کہ تم پر رحم ہو۔(الحجرات :11، بدر 31 جنوری 1909 صفحہ 7 - حقائق الفرقان صفحہ 2) یعنی اس آیت کی رُو سے مجھے یقین ہے کہ کم از کم اس آیت کے نزول تک جس قدر صحابہ تھے وہ آپس میں بھائی بھائی تھے۔گناہ شروع میں بہت چھوٹا اور آخر میں بہت بڑا ہو جاتا ہے۔جیسے بڑکا بیج دیکھنے میں کتنا چھوٹا ہوتا ہے۔جب بعض آدمیوں کو آرام ملتا ہے فکر معاش سے گونہ بے فکری حاصل ہوتی ہے۔وہ نکھے بیٹھنے لگتے ہیں اب اور کوئی مشغلہ تو ہے نہیں تمسخر کی خو ڈال لیتے ہیں۔تمسخر کبھی زبان سے ہوتا ہے کبھی اعضا ء سے۔کبھی تحریر سے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمسخر کا نتیجہ برا ہے وحدت باطل ہو جاتی ہے پھر وحدت جس قوم میں نہ ہو وہ بجائے ترقی کے ہلاک ہو جاتی ہے۔( حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ 3-4)