غلبہء حق — Page 53
۵۳ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :- جو لوگ ان الفاظ سے یہ مراد لیتے ہیں کہ دنیا میں کبھی کوئی عذاب نہیں آتا جب تک پہلے کوئی رسول مبعوث نہ کیا ہجائے وہ غلطی کرتے ہیں۔پھر اگر رسول کی ضرورت ہے تو عین اس مقام پر جہاں عذاب آئے۔مثلا جنگ کا عذاب یورپ میں آئے یا کوئی بھاری زلزلہ املی میں آئے اور اس سے دلیل یہ لی جائے کہ اس وقت کوئی رسول مبعوث ہو گیا ہے تو پھر ایسے رسول کا ہندوستان میں مبعوث ہونا خدائے حکیم کا فضل نہیں ہو سکتا میں میں حکمت کچھ بھی نہیں۔وہ رسول یورپ یا اٹلی میں آنا چاہیے تھا۔پھر دوسری وقت یہ ہے کہ ہر رسول کے لیے ایک وقت مقرر کرنا پڑے گا کہ اگر اس کے بعد اتنے عرصہ تک عذاب آئے تو یہ اس کی بعثت کی وجہ سے ہو گا اور اگر اس میعاد کے بعد آئے تو نیا رسول چاہیے اور اب جو عذاب آرہے ہیں اگر ان کے لیے کوئی نیا رسول پیدا ہونا ضروری ہو چکا ہے تو اب آئندہ رسول کی کب ضرورت ہوگی۔آیا یہ قانون تیرہ سو سال کا بن جائے گا۔ایسی باتیں کرنا گویا لوگوں کو یہ بتاتا ہے کہ مذہب علم نہیں بلکہ ایک کھیل ہے۔ربیان القرآن صفحه ۱۱۱۷ و ۱۱۱۸) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو آیت دما كنا معذبين حتى نبعث