غلبہء حق — Page 52
۵۲ اسی طرح حضور فرماتے ہیں :- جو شخص غور اور ایمان داری سے قرآن کریم کو پڑھے گا اس پر ظاہر ہو گا کہ آخری زمانہ کے سخت عذابوں کے وقت جبکہ اکثر حصے زمین کے زیر و زبر کیے جائیں گے اور سخت طاعون پڑے گی اور ہر ایک پہلو سے موت کا بازار گرم ہوگا اس وقت ایک رسول کا آنا ضروری ہے۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ماکت معذبين حتى نبعث رسولاً یعنی هم کسی قوم پر عذاب نہیں بھیجتے جب اک عذاب سے پہلے رسول نہ بھیج دیں۔پھر جس حالت میں چھوٹے چھوٹے عذابوں کے وقت میں رسول آئے ہیں جیسا کہ زمانہ کے گذشتہ واقعات سے ثابت ہے تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ اس عظیم الشان عذاب کے وقت میں جو آخری زمانہ کا عذاب ہے اور تمام عالم پر محیط ہونے والا ہے جیس کی نسبت تمام نبیوں نے پیش گوئی کی تھی۔خدا کی طرف سے رسول ظاہر نہ ہو۔اس سے تو صریح تکذیب کلام اللہ کی لازم آتی ہے۔پس وہی رسول مسیح موعود ہے " م حقیقة الوحی ص ) پھر یہی آیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر الہاما نازل ہوئی ملاحظہ ہو بدر - ۱۷ اکتوبر ۲۰۱۹۰۶ لاہور آکر مولوی محمد علی قادیان سے لاہور آگر مولوی صاحب موصوفت صاحب کی تفسیر آیت دما كنا معذبين حتى نبعث رسولاً