غلبہء حق — Page 54
۵۴ رسولا کو اپنی صداقت کی دلیل ٹھہرا کر اس کے رو سے اپنا رسول ہونا تحریر فرمایا تھا اور یورپ ، امریکہ اور اٹلی وغیرہ میں زلازل وغیرہ عذابوں کے آنے کا باعث اپنا بطور رسول مبعوث ہونا قرار دیا تھا لیکن صد افسوس کہ مولوی محمد علی صاحب لاہور میں آکر اس امر کو مذہب کو کھیل بنانا قرار دیتے ہیں۔ڈاکٹر عبدالحکیم خاں نے بھی حضرت مسیح موعود کی تکذیب میں ایسی باتیں لکھی تھیں چنا نچہ ڈاکٹر مذکور نے لکھا تھا کہ :- عمار السا ” اور خدا وند کریم بادلہ ہو گیا ہے کہ تکذیب تو قادیان ، بٹالہ ، امرتسر میں ہو اور وہ تباہ کرتا پھرے کولمبو، اٹلی ، سان فرانسسکو - فارموسا اور دیگر بلاد و دیہات کو جن کو آپ کی خبر تک نہیں۔(الذكر الحكيم نمبر۴ ص۳۳ ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔"جو شخص مجھے سچے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر حال میں مجھے حکم ٹھہراتا ہے اور ہر ایک تنازع کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے۔مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا تم اس میں نخوت ، خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے۔پس جانو کہ وہ مجھ سے نہیں ہے کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا۔اس لیے آسمان پراس کی عزت نہیں " (اربعین نمبر ۳ حاشیہ ص۳۲)