غلبہء حق

by Other Authors

Page 141 of 304

غلبہء حق — Page 141

۱۴۱ قرار پاتا ہے۔لیکن ایک شخص جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے کا دعو بادار ہو اور قرآن شریف کو منجانب اللہ تسلیم کرتا ہو وہ اگر مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کرے تو اس کا کفر غیر مسلم کے درجہ کا کفر نہیں ہو گا بلکہ جس طرح سیخ موعود امتنی بنتی ہیں اسی طرح آپ کا ایسا منکر امتی کا فر ہو گا۔یعنی امت محمدیہ میں داخل ہونے کی وجہ سے تو وہ مسلمان کہلائے گا لیکن مسیح موعود کے انکار کی وجہ سے کا فر ہو گا۔کیونکہ مسیح موعود کا انکار براہ راست کفر نہیں بلکہ بالواسطہ کفر ہے جس طرح آپ کی نبوت بالواسطہ ہے یہی معصوم اس * نکتہ کا ہے جو مسیح موعود نے بیان فرمایا ہے :- یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کا انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیده لائے ہیں لیکن صاحب شریعت کے ماسوا حبس قدر علم اور محدث ہیں گو وہ کیسے ہی جناب الہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ اللہ سے سرفراز ہوں اُن کے انکا رسے کوئی کافر نہیں بن جاتا ہے فاروقی صاحب نے یہ عبارت تریاق القلوب منسا سے اپنی کتاب فتح حق کے ص ۲ پر درج کی ہے۔گو تریاق القلوب شاہ سے پہلے کی کتاب ہے مگر اس میں جو کفر بیان کیا گیا ہے اس سے مراد کفر قسم اول ہی ہے جو شارع نبی کے انکار پہ لازم آتا ہے۔چنانچہ حقیقۃ الوحی ہیں اس عبارت کی بنا پر آپ پر سوال ہوا :