غلبہء حق — Page 142
۱۴۲ حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ ان مومنوں کے جو آپ کی تکفیر کر کے کا فرین جائیں صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہو سکتا۔لیکن عید الحکیم خاں کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے یعنی اب آپ کہتے ہیں کہ میرے انکار سے کا فر ہو جاتا ہے۔(حقیقة الوحی ص ) اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سوال کا جواب یہ دیتے کہ مجھے کافر قرار دینے والا تو کافر ہے اور نہ ماننے والا کا فرتیں اور سائل میری عبارتیں نہیں سمجھا تو پھر تو احمدیوں کے لاہوری فریق کا یہ مذہب یقینا درست ہوگا کہ حضرت مسیح موعود کا منکر کا فر نہیں لیکن حضرت اقدس لاہوری احمدیوں کے اس عقیدہ کے بالکل خلاف سائل کو یہ جواب دیتے ہیں کہ : " د عجیب بات ہے کہ آپ کا فر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں۔حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے " " (حقیقۃ الوحی ص ) اب فاروقی صاحب بتائیں کہ وہ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھیراتے ہیں یا نہیں ؟ اُن کے لیڈر مولوی محمد علی صاحب نے " رو تکفیر اہل قبلہ میں تو کافر ٹھہرانے والے اور نہ ماننے والوں کو دوم